ماڈل کورٹس سے عوام میں فوری انصاف کی فراہمی کا اعتماد بحال ہوا ، چیف جسٹس

ماڈل کورٹس سے عوام میں فوری انصاف کی فراہمی کا اعتماد بحال ہوا ، چیف جسٹس
Image Source: File Photo

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ  نے کہا ہے کہ ماڈل کورٹس کی وجہ سے عوام میں فوری انصاف کی فراہمی کا اعتماد بحال ہوا ہے، کورٹس نے عدالتی التوا کے الزام کو ختم کر دیا ہے اور پاکستان کی عدالتی تاریخ کو بدل دیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے  ماڈل کریمنل کورٹس کے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ججز میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل کورٹس کی وجہ سے عوام میں فوری انصاف کی فراہمی کا اعتماد بحال ہوا ہے، کورٹس نے عدالتی التوا کے الزام کو ختم کر دیا ہے اور پاکستان کی عدالتی تاریخ کو بدل دیا ہے۔چیف جسٹس نے   ماڈل کورٹس ججز کو ایوارڈز سے نوازا۔

اعلامیہ کے مطابق ڈی جی ماڈل کورٹس سہیل ناصر نے ماڈل کورٹس سے متعلق رپورٹ پیش کی، پندرہ جولائی سے قائم ماڈل کورٹس میں کل 19316 سول مقدمات نمٹائے گئے۔ ماڈل ٹرائل مجسٹریٹ کورٹس میں 18908 مقدمات نمٹائے گئے۔

اعلامیہ کے مطابق ماڈل کورٹس میں سب سے زیادہ مقدمات کا فیصلہ سنانے والے ججز کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس سے قبل اتنا جلدی مقدمات نمٹانا خواب تھا، ماڈل کورٹس نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کو بدل دیا ہے۔