حکومت کی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش

حکومت کی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش
کیپشن: حکومت کی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کامیابی کے بعد حکومت نے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو پھر کہتا ہوں عدالت کی بجائے اسپیکر آفس آئیں اور تجاویز کا خیر مقدم کریں گے جبکہ اپوزیشن اراکین کے ای وی ایم کے نظام پر تمام خدشات دور کریں گے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر پیچھے نہیں ہٹ سکتے یہ ہمارا انتخابی وعدہ تھا اور اگلے دو سال پاکستان کی تاریخ کے اگلے دو عشروں کی سیاست طے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور آصف زرداری کی فیملی سیاست قصہ پارینہ ہے۔ اب اپوزیشن میں بھی نئے کھلاڑیوں کی باری ہے۔ اگلے دو سال پاکستان کی تاریخ کے اگلے دو عشروں کی سیاست طے کریں گے۔ 1990کی ہائی کی سیاست کا مکمل اختتام اگلے دو سال کےلیے طے ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن نے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو شیطانی مشین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت عوام کے پاس ووٹ کیلئے نہیں جا سکتی۔

بلاول بھٹو کا آئندہ انتخابات کے نتائج نہ ماننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر اور حکومت آئندہ انتخابات متنازعہ بنا رہے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کسی صورت نہیں مانیں گے۔