کوئٹہ، پولیس ٹرک کے قریب خودکش دھماکا، 6 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید

کوئٹہ، پولیس ٹرک کے قریب خودکش دھماکا، 6 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید

کوئٹہ: ذرائع کے مطابق سریاب روڈ پر شالکوٹ کے علاقے میں پولیس وین کے قریب دھماکے کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایلیٹ فورس اہلکار ٹرک میں سوار ہو کر شہر کی جانب جا رہے تھے۔

 دھماکے کے نتیجے میں6 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید  اور 10 زخمی ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں اور لاشوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ایلیٹ فورس کا ٹرک مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا جب کہ جائے وقوعہ پر ایک گاڑی اور موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس اور ایف سی نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لیکر شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیئے۔ تاحال دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔ ڈی جی بم ڈسپوزل اسکوڈ اسلم ترین نے کہا کوئٹہ میں نیو سریاب کے علاقے میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ دھماکے میں 100 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا۔ خود کش حملہ آور گاڑی میں سوار ہو کر سریاب کے علاقے سے نیو سیراب کے علاقے کیلئے روانہ ہوا تھا۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل 13 اکتوبر کو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے ایک اہلکار شہید اور 3 زخمی ہو گئے تھے۔

اظہار مذمت

 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دینے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناااللہ زہری نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ کو زخمیوں کی بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کوئٹہ میں ہونیوالے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور لواحقین سے اظہار تعزیت کی۔ 

سرفراز بگٹی کی میڈیا سے گفتگو

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمیں پست نہیں کر سکتے جب تک ایک دہشت گرد ہے تب تک یہ جنگ لڑیں گے۔

دہشت گرد پہلے وزیرستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتے تھے لیکن آج ہمارے خلاف حملوں کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور این ڈی ایس پاکستان میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہیں تاہم اس حملے سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں