آئی ایس پی آر کو جمہوریت کے حوالے سے بیان دینے کی ضرورت نہیں: نثار کھوڑو

آئی ایس پی آر کو جمہوریت کے حوالے سے بیان دینے کی ضرورت نہیں: نثار کھوڑو

حیدرآباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کو جمہوریت کے حوالے سے بیان دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی جمہوریت عوام کا کام ہے ۔ ہم نے آئین بنایا اور ادارے چلارہے ہیں۔ کارساز پر ہونے والی دہشت گردی کی ایف آئی آر پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کی تھی۔


جلسہ گاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں 40ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں ۔ 160فٹ لمبا اور 20فٹ چوڑا اسٹیج بنایا گیا ہے ۔ اسٹیج اور اس کے اطراف میں اسکرین لگائی جائیں گی جن پر جلسے کی کارروائی عوام دیکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ بجلی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا ہے تاکہ دور دور تک لوگوں کو آواز پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ اسٹینڈ بائی جنریٹر بھی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ کے علاوہ ہم اپنے اوپر خود انحصار کرتے ہیں بینظیربھٹو کی گاڑی کے ارد گرد بھی کارکنان جمع رہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ 18اکتوبر کو سانحہ کارساز کراچی کی یا دمیں چیئرمین بلاول بھٹو حیدرآباد کے جلسے میں شہیدوں کے ورثاءکو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ جلسے کےلئے حیدرآباد ڈویژن کے لوگ منتظر ہیں  شہر کی رونقیں بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں کو بلاول بھٹو کی صورت میں بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کارنر میٹنگز میں بھی ہزاروں کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے 10سال گزر جانے کے بعد بھی سانحہ کار ساز کے ملزمان کو گرفتار نہ کئے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ کی دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کرانے کےلئے بینظیربھٹو نے اپنے ہاتھ سے بیان لکھا ۔ ہم ورکر لے کر بیان تھانے میں لے کر گئے لیکن پولیس نے ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی ۔ پولیس نے فریادی سے کچھ پوچھا ہی نہیں اور اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کرلی۔ ایف آئی آر کے ایک گھنٹے کے بعد جائے وقوعہ کی صفائی بھی کردی گئی اس کے بعد ہم عدالت گئے ، عدالت کے حکم پر جب ہم ایف آئی آر کٹوانے تھانے پہنچے تو وہاں سے ایس ایچ او غائب ہوگیا۔