ایٹم بم حملے سے متاثرہ خاتون کا اقوام متحدہ میں ایٹمی ہتھیاروں پر عالمی پابندی کا مطالبہ

ایٹم بم حملے سے متاثرہ خاتون کا اقوام متحدہ میں ایٹمی ہتھیاروں پر عالمی پابندی کا مطالبہ

نیویارک:ایٹمی حملے میں بچنے والی خاتون امریکا پہنچ گئی، ناگاساکی پر 1945 میں ہونے والے ایٹمی حملے سے متاثرہ ایک خاتون نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کرےں۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں 82 سالہ جاپانی خاتون توکوکو کیمورا نے کہا کہ وہ 1945 میں جاپانی شہر ناگاساکی پر امریکا کی بمباری کے وقت 10سال کی تھیں ۔


حملے میں بری طرح جھلسنے والوں کے ہمراہ گراونڈ زیرو سے 3 کلومیٹر فاصلے پر واقع ایکگھر میں پناہ حاصل کی تھی۔ انہوں نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر کے ممالک ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کرےں تاکہ آج کے بعدکسی بھی ملک کو ایٹمی حملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اجلاس میں رواں سال امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی تنظیم جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بین الاقوامی مہم ICAN کے انمائندے بھی شریک تھے۔ واضح رہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح ممالک کے ساتھ ساتھ جاپان سمیت ایسے دوسرے ممالک بھی مذکورہ معاہدے کے خلاف ہیں جو اپنے دفاع کے لیے دوسرے ممالک کے ایٹمی ہتھیاروں پر انحصار کرتے ہیں۔