جہانگیر ترین کے ملازم بھی کروڑوں کے مالک نکلے

جہانگیر ترین کے ملازم بھی کروڑوں کے مالک نکلے

اسلام آباد :جہانگیر ترین کے ان دو ملازمین کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے نام کروڑوں روپے کی جائیداد ہے جو دراصل جہانگیر ترین کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے ذاتی ملازمین کی حوالے سے دریافت کیا اور کہا کہ کل آپ سے اللہ یار اور حاجی خان کا پوچھا تھا۔ جس پر سکندر مہمند نے بتایا کہ اللہ یار 1975ءسے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ اللہ یار لودھراں فارم کے انچارج ہیں جب کہ حاجی خان 1980ءسے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں اور لاہور اور اسلام آباد میں جہانگیر ترین کے گھروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ سکندر مہمند نے کہا کہ یہ یہ کہنا درست نہیں کہ یہ دونوں ملازمین ڈرائیور یا باورچی ہیںاور ان کے نام کروڑوں کی جائیدادیں ہیں۔

ان ملازمین کے حوالے سے سکندر مہمند نے عدالت کو بتایا کہ اللہ یار نے 13 ملین کے شیئر خرید کر 46 ملین میں فروخت کیے لیکن سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تمام منافع واپس لے لیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون کے مطابق رقم حکومت کو جانی چاہیے تھی۔ سکندر مہمند نے کہا کہ انسائیڈر ٹریڈنگ اور ایس ای سی پی کی کارروائی کے دوران جہانگیر ترین وفاقی وزیر نہیں تھے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزیدف کہا کہ اعتراف کا مطلب سزا یافتہ ہونا نہیں ہوتا۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو عام شہری کو حاصل ہیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔