میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب، غریب ترہورہا ہے،بلاول

میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب، غریب ترہورہا ہے،بلاول
میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب، غریب ترہورہا ہے،بلاول
میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب، غریب ترہورہا ہے،بلاول
میاں صاحب کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب، غریب ترہورہا ہے،بلاول

حیدر آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ اورپی ٹی آئی کوعوام کی کوئی فکرنہیں اور نہ ہی ان کے پاس عوام کودینے کے لیے کوئی پروگرام ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے حیدر آباد میںعوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارخانے بند ہورہے ہیں،مہنگائی نے لوگوں کا جینا مشکل بنادیا ہے، ہماری جدوجہد اس نظام اوراستحصال کے خلاف ہے یہ لوگ کرپشن کونعرے کے طورپراستعمال کرتے ہیں،میں گالی نہیں دیتا نظریاتی سیاست پریقین رکھتا ہوں،اناڑی شخص کرکٹ گراو¿نڈ سے باہرنہیں نکلا،سیاست گالم گلوچ کا نام نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ اب تک جاری ہیں۔

انھوں نے پیپلزپارٹی کی تاریخی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آمرانہ دور کی خوب درگت بنائی۔ نکا کہنا تھاکہ اپنے قیام سے لے کرآج تک آزمائشوں سے گزررہی ہے، شہید بھٹو کی عوامی اورجمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا، شہیدبھٹوکی پھانسی کے بعدآمرسمجھ رہاتھاپارٹی ختم ہو گئی ہے ،آمرسمجھ رہاتھاکوئی آمریت کوچیلنج نہیں کرےگا،آمرغلط ثابت ہوا،نصرت بھٹو اور بی بی نےپارٹی کی قیادت سنبھالی،پیپلزپارٹی نے ایوب خان کی آمریت کا مقابلہ کیا،حکومتیں ختم کی گئیں، میڈیاٹرائل کیا گیا،ایک طرف پیپلزپارٹی تھی دوسری طرف آمریت کی گودمیں پلنے والی پارٹیاں تھیں لیکن پھر بھی آج پارٹی اپنے مضبوط قدموں پر کھڑی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہیدوں کی یاد منانے کے دوطریقے ہوتے ہیں،شہیدوں کی یادکاایک طریقہ آنسوبہاکرسوگ منانا ،دوسرا سوگ مناکرقاتلوں کوبے نقاب کرنا ہے،شیطانی قوتوں کے حملے میں بے نظیرکوشہید کیا گیا،بے نظیرنے ہرجگہ امراوردہشت گردوں کوللکارا،جب بھٹوپھانسی سے نہیں ڈرا توبےنظیرموت سے کیسے ڈرسکتی تھی،یہ بھٹوکی بیٹی تھی،جب باپ عوام سے دورنہیں رہاتوبیٹی کیسے دور رہتی۔