شریف خاندان نے نیب ریفرنسز سے بچنے کیلئے اپنی حکمت عملی تیار کر لی

شریف خاندان نے نیب ریفرنسز سے بچنے کیلئے اپنی حکمت عملی تیار کر لی

اسلام آباد: شریف خاندان نے نیب ریفرنسز میں فرد جرم سے بچنے او ر کیس کو طوالت دینے کے لئے تاخیری حربوں کے استعمال سے متعلق اپنی حکمت عملی مرتب کر لی ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت سابق وزیرا عظم نواز شریف ایک بار پھر آج جمعرات کو احتساب عدالت میں پیش نہیں ہونگے جبکہ ان کے وکیل خواجہ حارث بھی عدالت کو بتائے بغیر لندن چلے گئے ہیں

تفصیلات کے مطابق انھیں بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت باہر بھجوایا گیا ہے۔جبکہ نواز شریف کو ان کے قریبی معاونین نے ایک بار پھر مشورہ دیا ہے کہ وہ بیرون ملک رہنے کی بجائے ملک میں آکر نیب مقدمات کا سامنا کریں۔ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر فرد جرم عائد کرنے کے حوالے سے آج جمعرات کو احتساب عدالت میں سماعت ہونی ہے تاہم اس کیس کو طوالت دینے اور فرد جرم عائد کرنے کے عمل کو رکوانے کے لیے شریف خاندان نے حکمت عملی بنا لی ہے اور اسی منصوبہ بندی کے تحت اچانک نواز شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کو بیرون ملک بھجوایا گیا حتی کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی بدھ کی صبح ہی پتہ چلا کہ خواجہ حارث لندن چلے گئے ہیں

خواجہ حارث نیب ریفرنس میں ملزم نواز شریف اور مریم نواز کے وکیل ہیں اور احتساب عدالت نے ملزم نواز شریف, مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کو آج جمعرات کو طلب کر رکھا ہے اور ان ملزمان پر احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کرنی ہے لیکن فرد جرم کی کاروائی سے بچنے کے لیے آج سماعت میں ملزمان کے وکیل کی عدم موجودگی کا بہانہ پیش کیا جائیگا اور ساتھ ہی معاون وکیل احتساب عدالت میں ملزم نواز شریف سمیت دیگر پر فرد جرم عائد نہ کروانے کی درخواست کریںگے

دوسری طرف لندن میں موجودنواز شریف بھی اس معاملے پر قانونی معاو نین سے مشاورت بھی کر رہے ہیں اور خواجہ حارث کا لندن جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف کا ائندہ ہفتے وطن واپس انے کا امکان ہے، خواجہ حارث نے لندن میں ان سے ملاقات کی ہے او ر انھیں احتساب عدالت کی اب تک کی کاروائی سے آگاہ کیا ہے اور ساتھ ہی انھیں بعض قانونی مشورے بھی دیئے ہیں ۔