میانمار پر سخت اقتصادی و عسکری پابندیوں کی سفارش کر دی گئی

میانمار پر سخت اقتصادی و عسکری پابندیوں کی سفارش کر دی گئی

نیویارک:انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر کیے جانےوالے مظالم کے نتیجے میں مطالبہ کیا ہے کہ میانمار پر سخت اقتصادی اور عسکری پابندیاں عائد کی جائیں۔


25اگست سے روہنگیا میں شروع ہونے والی مظالم کیخلاف اب آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے راکھائن میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ریاستی ظلم و جبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھی راکھائن کی موجودہ صورتحال کو نسل کشی قرار دیا ہے لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ میانمار پر سخت اقتصادی و عسکری پابندیاں عائد کریں اور ان پر اسلحے کی خریداری پر پابند ی بھی لگائیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ایڈووکیسی ڈائریکٹر جان سفٹن کا کہنا ہے کہ برمی سیکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہیں اور اب وقت آچکا ہے کہ ایسے سخت اقدامات کیے جائیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کریں تاکہ برمی فوج مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور ہو جائے۔تنظیم کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں تک رسائی دی جائے۔