موبائل فون کی درآمدات میں 98 فیصد اضافہ

موبائل فون کی درآمدات میں 98 فیصد اضافہ
image by facebook

لاہور:ماہانہ بنیادوں پر موبائل فون کی درآمدی بل میں جولائی میں اضافہ دیکھا گیا , ماہانہ بنیادوں پر درآمدی بل کو دیکھیں تو مالیت کے حساب سے جولائی میں اس میں دگنا اضافہ ہوا اور یہ 3 کروڑ 73 لاکھ ڈالر سے 7 کروڑ 38 لاکھ ڈالر (یعنی 97.85) فیصد تک بڑھ گیا۔


اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ گزشتہ مالی سال میں کرنسی کی قدر میں واضح کمی اور ادائگیوں کے توازن کی روشنی میں حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکسز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کرنے کے بعد موبائل فون کی اندرونی ترسیل میں مسلسل کمی کے بعد موبائل فون کے درآمدی بل میں اس طرح بڑے پیمانے میں اضافے کی توقع نہیں تھی۔

کراچی میں محکمہ شماریات کے ڈائریکٹر (تجارت) کے دفتر کے مطابق اگست کے مہینے کے لیے حالیہ اعداد و شمار ابھی تک مرتب نہیں ہوئے تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر موبائل فون برآمدی بل میں کمی واقع ہوئی اور یہ مالی سال 18 میں 74 کروڑ 18 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر مالی سال 19 میں 59 کروڑ 64 لاکھ ڈالر ہوگیا۔

سالہ بنیادوں پر دیکھیں تو جولائی میں ہینڈسیٹ درآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 14 فیصد (6 کروڑ 46 لاکھ ڈالر) بڑھی , اسی طرح عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کی ایک معروف کمپنی کینالس کی جانب سے پاکستان کی موبائل فون مارکیٹ کے مرتب اعداد و شمار کو دیکھیں تو گزشتہ مالی سال سے ہینڈسیٹس کی تعداد کے لحاظ سے موبائل فون کی درآمدات واضح طور پر کم ہوئی اور مالی سال 18 کے دوران ملک میں ماہانہ اوسطاً 11 لاکھ فونز لانے کی تعداد مالی سال 19 میں اوسطاً 8 لاکھ تک پہنچ گئی۔

اس صنعت سے وابستہ ذرائع موبائل فون کی درآمدی قیمت میں تیزی سے اضافے کو تکنیکی بہتری (ٹینکالوجی امپروومنٹ) کی وجہ سے ہینڈسیٹس کی قیمتوں میں بڑھنے سے منسوب کرتے ہیں۔اس حوالے سے اوپو کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر علی ککوی نے بتایا کہ 'اس کی وجہ یہ موبائل فون بنانے والے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے اپنی ٹینکالوجی کو مسلسل بڑھا رہے ہیں اور نئے فیچرز شامل کر رہے ہیں، اس نے (ڈالر کے حساب) سے قیمتوں میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے، مثال کے طور پر ایک فون جس کی مالیت پہلے یا ایک سال قبل 200 ڈالر تھی وہ اب نئے فیچرز اور ٹینکالوجی میں بہتری کی وجہ سے تقریباً 250 ڈالر یا اس سے زیادہ تک کا ہوگا۔

صنعت کے ذرائع کہتے ہیں کہ گزشتہ سال سے کرنسی کی قدر میں بڑی کمی نے صارفین کو مہنگے موبائل خریدنے سے دور ہونے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ مہینگے فون سے معقول قیمت تک کے ہینڈسیٹس ایک جیسے فیچرز فراہم کر رہے ہیں۔

کینالس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں ملک کی موبائل فون مارکیٹ اس وقت 100 سے 299 ڈالر مالیت کے ہینڈسیٹس کا رجحان رہا جو 63 فیصد تک بنتا ہے جبکہ اس کے بعد 200 سے 299 ڈالر تک مالیت کے فون کا بریکٹ 18 فیصد رہا اور پھر 100 ڈالر سے کم مالیت کے فون 17 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرسکے۔

اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی مارکیٹ کی تقریباً 3 سہ ماہیوں میں 4 برانڈز چھائے رہے، جس میں اوپو 25 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے بعد سام سنگ 19 فیصد، ہواوے 15 فیصد اور ویوو 13 فیصد تک مارکیٹ شیئرز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔