آئین وقانون کے دائرے میں جلسے جلوس کریں گے، شاہدخاقان 

 آئین وقانون کے دائرے میں جلسے جلوس کریں گے، شاہدخاقان 

اسلام آباد :مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے 31 ارکان غیر حاضر تھے جن میں ہماری پارٹی کے 12 ارکان تھے ان میں سے 5 بیمار تھے باقی7 کو شو کاز نوٹس جاری ہونا چاہیے ، اے پی سی اشتعال انگیز نہیں بلکہ معنی خیز اور نتیجہ خیز ہوگی ،ہم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلسے جلوس کریں گے۔


مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے 31 ارکان غیر حاضر تھے جن میں ہماری پارٹی کے 12 ارکان تھے ان میں سے 5 بیمار تھے باقی7 کو شو کاز نوٹس جاری ہونا چاہئیے اور نیم اینڈ شیم بھی ہونا چاہئیے، افتخار نذیر کو تاخیر سے پتا چلا وہ اجلاس میں پہنچے لیکن تب تک ووٹنگ ہوچکی تھی ، ہم نے گنتی کا مطالبہ کیا اسپیکر نے دوبارہ گنتی نہیں کرائی ۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نہ بات سمجھتی ہے نہ سننے کو تیار ہے ، ہم پارلیمنٹ میں موجود تھے قائد حزب اختلاف تک کو بولنے نہیں دیا گیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کمرے میں بیٹھ کر مسائل کا حل نکالاجاتا ہے ، مجموں میں نہیں کی جاتیں ، ہمیں سب حقائق کا پتہ ہے ، حکومت غلط باتیں پبلک میں لاکر جھوٹی پوائنٹ سکورننگ نہ کرے، ان کو ایسی باتوں سے شرم آنی چاہیے ، جتنا کام اپوزیشن نے فیٹف کےلئے کیا ہے اس حکومت نے نہیں کیا، ان کے بلوں میں ایسی ایسی خامیاں تھیں اگر میں بیان کروں تو ان کے پاس چھپنے کے لئے جگہ نہیں رہے گی ، اے پی سی معنی خیز اور نتیجہ خیز ہوگی .

اشتعال انگیز نہیں ہوگی لیکن اپوزیشن اسمبلی میں بولے بھی تو اسے اشتعال سمجھتا جاتا ہے،ہم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلسے جلوس کریں گے ۔ شاہد خاقان عباسی کے بقول پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کے 187 اور اپوزیشن کے 190 ووٹ تھے لیکن ہمارے مطالبے کے باوجود دوبارہ گنتی نہیں کرائی گئی۔