16 ہزار مزید بیروزگار خاندان

Asif Anayat, Daily Nai Baat, Urdu Newspaper, e-paper, Pakistan, Lahore

ارتقا ایک ایسا عمل ہے جس میں طرز عمل اور نیک نیتی کا بنیادی دخل ہوتا ہے۔ اگر بنیاد درست ہو تو عمارت تاریخ کا حصہ بن جایا کرتی ہے ورنہ انہدام مقدر ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں آزادی کے بعد ہر شعبہ میں روزگار کی گنجائش موجود تھی۔ وکالت، صحت، بیورو کریسی و دیگر ملازمین اسی طرح کاروباری شعبہ یعنی صنعت و تجارت میں تو بہت زیادہ گنجائش تھی۔ لہٰذا لوگوں کی روزگار کے حوالے سے کھپت ہوتی گئی مگر پہلے دن سے آج تک سیاسی، ذاتی اور علاقائی وابستگی بنیاد رہی۔ رشوت کی بنیاد تو مہاجرین کی آباد کاری سے پڑی جو دوسرے محکمہ جات میں پھیل گئی۔ اس کا مثبت ارتقا کسی قاعدے کلیے کے تحت ہوتا تو آج ہم بھی قانون کی حکمرانی سے لطف اندوز ہونے والے ممالک کی صف میں شامل ہوتے۔ میرا آج بھی یہ ماننا ہے کہ اگر جسٹس منیر نہ بیٹھتا تو قوم کھڑی رہتی اگر اعلیٰ عدلیہ میں جسٹس ایم آر کیانی، کارنیلیئس اور فائز عیسیٰ ایسے کرداروں کی اکثریت ہوتی تو آج قوم کی حالت مختلف ہوتی۔ روزگار کسی بھی معاشرے میں انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے طریق کار میں میرٹ بنیاد ہونا چاہیے۔ دیکھا گیا ہے کہ مارشل لاؤں کے ادوار یا ہائبرڈ نظام میں رکھے گئے ملازمین کیے گئے کارناموں حتیٰ کہ کرپشن کی گرفت نہیں کی گئی۔گریٹ بھٹو صاحب کی حکومت کے خاتمے اور شہادت کے بعد ضیاء الحق جیسا شخص بھی کابینہ کیا پورے ملک میں کسی ایک سیاسی ورکر پر بھی بدعنوانی کا الزام نہ لگا سکا البتہ جمہوری حقوق مانگنے پر شاہی قلعے، جیلیں بھر گئیں۔ کوڑے اور ٹکٹیاں سج گئیں۔ دوسری جانب ”اس بازار“ میں دھندہ کرنے کے لیے 11 سے ایک بجے رات کے اوقات مقرر کر دیئے گئے وہ بھی (آرڈیننس کے تحت) ضیاء الحق دور میں پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کے لیے بدعنوانی کو بطور پالیسی رائج کیا۔ میاں محمد نواز شریف جس کو حمید گل نے ایجنسیوں کا فخر قرار دیا، وزیر خزانہ پنجاب، وزیرا علیٰ پنجاب پھر وزیراعظم پاکستان ہوئے۔ہر محکمہ میں بھرتی حکمرانوں کا حق اور اختیار ٹھہرا۔ روزگار فراہم کرنا حکمرانوں کا فرض ہوتا ہے البتہ پیپلزپارٹی کے لوگوں کے لیے رو زگار منع تھا۔ 1985ء میں جونیجو وزیراعظم بنے مگر سرکاری روزگار میں کوئی قاعدہ کلیہ نہ تھا۔ جس ملک میں آئین ملک ٹوٹنے کے بعد بنا ہو، اس میں کیا قاعدہ کلیہ بننا تھا۔ آج بھی سول اور فوجداری قوانین 20 ویں صدی کے اوائل اور 18 ویں صدی یعنی گورے کے دور کے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے قانون سازی میں اپنی ذات اور طوالت اقتدار کو ہمیشہ آگے رکھا لہٰذا بدنیتی اور ذاتی مفاد کی خاطر بنائے گئے ضابطے اور قوانین کبھی فلاح عامہ اور مفادعامہ کے لیے نہیں ہوتے۔ 1988ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت محدود اختیارات کے ساتھ 

قائم ہوئی۔  محترمہ بے نظیر بھٹو کو مشورہ دیا گیا کہ جونیجو اور شریف دور میں سرکاری محکموں میں میرٹ اور قوانین کے خلاف بھرتیاں کی گئی ہیں سب کو فارغ کریں اور لوگوں کو میرٹ پر نوکریاں دیں۔ بی بی شہید نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں ہم کسی کا روزگار خراب نہیں کریں گے، وہ بھی پاکستانی ہیں ہم مزید اسامیاں پیدا کریں گے مگر پنجاب حکومت نے پنجاب کے محکمہ جات میں اپنے ایم پی اے اور قریبی لوگ بھرتی کرنے کے سلسلہ میں وہی وتیرہ رکھا۔ یہ ایسا ہی ہے رنگ میں دو پہلوان میں سے ایک کے ہاتھ میں کاشنکوف تھما دی جائے۔ پنجاب حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ بی بی صاحبہ کو بھی مشورہ دیا گیا۔ انہوں نے پلیس منٹ بیورو بنایا اور 6ماہ کے لیے بھرتی کیے گئے لوگوں پر محکمانہ یا پبلک سروس کمیشن جو بھی درکار تھا کے امتحان میں کامیابی کی شرط رکھی۔ میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تو پیپلزپارٹی کے رکھے گئے لوگ نوکریوں سے برخاست کر دیئے گئے۔ یہ پیغام تھا کہ پیپلزپارٹی روزگار بھی دے دے تو چھین لیا جائے گا۔ میاں صاحب نے اپنے دوسرے دور میں وہ ملازمین برخاست کر دیئے جو بی بی شہید نے اپنے دوسرے اقتدار میں بھرتی کیے تھے۔ ایک حالیہ عدالتی فیصلہ سے 16ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں جن کے سربراہان کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فیصلہ میں خاص طبقہ کو نوازنے کی بات کی گئی ہے یاد رہے کہ ایک پانامہ کیس ہوا تھا اس میں سیکڑوں لوگ تھے مگر اقامہ نکال کر بجلی صرف نواز شریف پر گرائی گئی۔ جنرل مشرف کا این آر او جسٹس افتخار نے ختم کر دیا مگر مقدمات صرف آصف علی زرداری کے خلاف دوبارہ کھلے۔ اعانت کے الزام میں سزائے موت صرف گریٹ بھٹو کا مقدر ٹھہری۔ غیر آئینی حکومتوں کو جائز قرار دینا، آئینی حکومتوں کو گھر بھیجنا ایک خاص طبقے بلکہ افراد کے فائدے اور نقصان کے لیے ہی تو تھا مگر جس کے ہاتھ میں قلم ہو اس کو علم ہونا چاہیے کہ اس کا قلم کہیں دوسروں کے لیے کرپان تو نہیں بن رہا۔ 16 ہزار ملازمین کی بحالی کے لیے شہباز شریف بھی متحرک ہیں گویا غلطی کا ازالہ کر دیا۔ اس عمر میں جب ان میں اکثریت ریٹائرمنٹ کی دہائی میں داخل ہو چکی ہے اتنے سال بعد نوکری سے فارغ کر دینا 

اس کارونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد

اس کا غم ہے کہ دیر میں برباد کیا

کے مصداق ہیں۔ 

فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ایک متاثرہ خاتون کی درخواست پر عدالت کے حکم اور متعلقہ حکام کے فیصلے سے رات 12 بجے سے لے کر صبح 5 بجے تک کوئی فلائٹس نہیں اترتی۔  

جاپان میں ایک بچی کا مڈل سکول میں ایک سال رہتا تھا۔ اس کے گھر کے پاس ریلوے اسٹیشن پر ٹرین صرف اس کے لیے آتی تھی۔ کوئی اور مسافر نہ تھا مگر جاپان حکومت نے ایک سال ایک بچی کے لیے ٹرین چلائی کہ اس کے سکول کا حرج نہ ہو۔ خاص طبقہ کو اگر اپنے ملک کا طبقہ سمجھ لیا جائے اور خیال کیا جائے کہ اب وہ کوئی دوسرا کام یا نوکری نہیں کر سکتے بچوں کی شادیاں قریب ہیں تو معاشرے کے مثبت ارتقا کے لیے جبکہ معاشرت اور قانون کی عمل داری کے لیے آئندہ کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر دیاجائے مگر رسوا کر کے بیروزگار نہ کیا جائے۔ ویسے میرٹ پر بھرتی ہو بھی جائے تعیناتیاں ہمیشہ سفارش، سیاسی یا رشوت کے تحت ہوا کرتی ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں 16 ہزار خاندان جن کو مراعات یافتہ کہا گیا ہے۔ ان میں خاکروب، چپڑاسی، چھوٹے ملازمین اور آئی ٹی کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو 12/10 سال نوکری کر چکے ہیں۔ متاثرین سمجھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے مگر انسانی بنیادوں پر نظرثانی کی جائے یا موجودہ حکومت آرڈیننس کی ماہر ہے ایک آرڈیننس ان کے حق میں بھی جاری کیا جائے۔ آخر وہ پاکستانی ہیں۔ کوئی بھارتی یا اسرائیلی تو نہیں۔ ان خاندانوں کے لیے بہت بڑی قیامت ہے اور یہ قیامت موجودہ حالات میں دو آتشہ ہو گئی ہے۔