موجودہ بجلی کے بحران پر آئندہ آٹھ سے 10 روز میں قابو پا لیا جائے گا،خواجہ محمد آصف

اسلام آباد : وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ موجودہ بجلی کے بحران پر آئندہ آٹھ سے 10 روز میں قابو پا لیا جائے گا۔ حکومت صارفین کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے اور بجلی کی فراہمی کی صورت حال آج (جمعرات) سے بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔

رواں سال اپریل میں گذشتہ سال اپریل کی نسبت گرمی کی وجہ سے 2700 میگاواٹ طلب کا اضافہ ہوا۔ پیک ٹائم میں بجلی کی کمی 5200 میگاواٹ ہے۔ دسمبر تک 6400 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔ جن فیڈرز پر 70 فیصد سے زائد لائن لاسز ہیں وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔

وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے سالانہ مرمت کے لئے بجلی کے پلانٹس بند کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے 2200 میگاواٹ بجلی نظام سے نکل جاتی ہے۔ یہ ہماری غلطی ہے پلانٹس کی مرمت اپریل سے پہلے پہلے مکمل ہو جانی چاہئے تھی اور اپریل میں پلانٹس مکمل مرمت کے بحال ہو کر چلنا شروع ہو جانا چاہئے تھے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال اپریل کے مقابلہ میں رواں سال اپریل میں گرمی بہت زیادہ پڑی ہے۔

زیادہ گرمی کی وجہ سے ایئرکنڈیشن زیادہ چلے ہیں اور بجلی کی پیداوار کے مقابلہ میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے عارضی بحران پیدا ہوا ہے۔ اس بحران پر آئندہ 10 روز کے اندر قابو پا لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ شارٹ فال آٹھ ہزار یا 9 ہزار میگاواٹ ہے یہ بات غلط ہے۔ وقتی طور پر جو بحران پیدا ہوا ہے اس حوالے سے جو اعداد و شمار ہیں پیک ٹائم پر شارٹ فال 5200 میگاواٹ ہے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز کے دوران اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔

رواں ماہ اور آہندہ ماہ مزید بجلی نظام میں شامل ہو جائے گی اور جو پلانٹ مرمت کے لئے بند تھے۔ وہ بھی چلنا شروع ہو جائیں گے۔ ان سے بھی 2200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ 6400 میگاواٹ بجلی اسی سال دسمبر تک سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کافی عرصہ سے صنعتوں میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برس کے دوران صنعتوں میں رمضان المبارک کے دوران ایک شفٹ بند کی جاتی تھی تاکہ ایک شفٹ کی بجلی گھریلو صارفین کو سحری اور افطاری کے اوقات میں فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس برس بھی صنعتوں کی ایک شفٹ کی بجلی رمضان المبارک کے دوران بند کی جائے گی۔ دو شفٹیں چلتی رہیں گی۔ ایک شفٹ کی بجلی گھریلو صارفین کو فراہم کی جائے گی تاکہ ان کو سحری اور افطاری کے دوران کسی صورت کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال دسمبر تک ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

سوائے ان علاقوں کے جہاں ریکوری 70 فیصد سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی لائن لاسز اور ریکوری 70 فیصد سے کم ہو گی۔ وہاں فیڈر بند کر دیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد تمام صوبوں میں ریکوری کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم منصوبہ پر 91 سے 92 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبہ کے علاوہ جو نظام میں شامل ہو رہے ہیں وہ موجودہ حکومت نے شروع کئے تھے