مشال خان قتل کیس : پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا گیا

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس نثار ثاقب نے مشال خان قتل ازخودنوٹس کیس میں پشاور ہائیکورٹ کو مقدمے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا۔

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس نثار ثاقب نے مشال خان قتل ازخودنوٹس کیس میں پشاور ہائیکورٹ کو مقدمے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی تو عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو کمیشن بنانے سے روک دیا۔
وزیراعلیٰ نے مشال قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں اپنے تحقیقاتی اداروں پر اعتماد ہے جب تحقیقاتی ادارے اپنا کام پوراکررہے ہیں تو جوڈیشل کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے۔عدالت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسے وضاحت طلب کرلی جب کہ جے آئی ٹی کو کیس میں پیش رفت کی ہفت وار رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 27اپریل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔