بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی اداروں کو میدان جنگ بنا دیا : سید علی گیلانی

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعلیمی اداروں کو بھی میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیری طلباء و طالبات کو نہ صرف بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایاجا رہا ہے بلکہ انکے تعلیمی مستقبل کو بھی تاریک کیا جا رہا ہے۔

سید علی گیلانی نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں مقبوضہ وادی کے بعد جموں خطے کے علاقے بانہال میں طلباء و طالبات پر بھارتی پولیس کے تشددد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جبر و استبداد پر مبنی پالیسی کے انتہائی خطرناک نتائج نکلیں گے۔

سیدعلی گیلانی نے سرینگر کی زخمی طالبہ اقراء صدیق کی اسپتال میں تشویشناک حالت پرفکرمندی کا اظہار کیا اور کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق اقرا پر بھارتی پولیس کے بنکرکے اندر سے پتھر پھینکا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی ۔

انہوں نے سکولوں اور کالجوں کو بند کرنے پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ لگتا ہوتا ہے جسکا مقصد بچوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانا ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں ''ڈاول ڈاکٹرین'' نافذ العمل ہے جسکے مطابق بھارتی فورسز کو نہتے کشمیریوں پر مظالم کی کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے اور طلباء کے خلاف جاری جارحانہ مہم کو فوری طور پر بند نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے ۔