سندھ میں رینجرز کو اختیارات نہ ملے تو متبادل آپشنز پر غور ہوگا، چوہدری نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کا رینجرز کو محدود اختیارات کا عندیہ خلاف قانون ہے تاہم صوبے میں رینجرز کو اختیارات نہ ملے تو متبادل آئینی وقانونی آپشنز پر غور ہوگاصوبائی حکومت اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کی خاطر کراچی کے عوام کی سیکیورٹی پر کمپرومائز کرتی ہے.

چوہدری نثار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رینجرز کی قربانیوں کو غیر ضروری طور پر متنازعہ بنادیا جاتا ہے اور سندھ میں رینجرز کی کارکردگی کو ہر 3 ماہ بعد متنازعہ بنادیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا رینجرز کو محدود اختیارات کا عندیہ خلاف قانون ہے تاہم صوبے میں رینجرز کو اختیارات نہ ملے تو متبادل آئینی وقانونی آپشنز پر غور ہوگا۔وزیرداخلہ چوھدری نثارعلی خان نے سندھ حکومت کے کراچی میں رینجرزکومحدوداختیارات دینے کے اعلانات کوخلاف ضابطہ قراردے د یتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قانون کوانتظامی آرڈرکے زریعے محدودنہیں کیاجاسکتا۔ چوہدری نثار کا کہناتھا کہ رینجرز کراچی کے اندر اپنی ذمہ داریاں تبھی پوری کر سکتے ہیں جب انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت اختیارات کومتنازعہ نہ بنایاجائے حکومت سندھ کا انہیں محدود اختیارات دینے کا عندیہ خلاف قانون اور خلاف ضابطہ ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی مضحکہ خیز ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت رینجرز کو اپنے گارڈز کے طور پر تو استعمال کرنا چاہتی ہے مگر کراچی کے عوام کے تحفظ کے لئے متعلقہ قانون کے تحت انہیں اختیارات دینے کے لئے تیارنہیں۔

وزیرداخلہ نے کہاکہ سندھ رینجرز کوئی سیکیورٹی کمپنی نہیں کہ انکو وی آئی پیز کی سیکورٹی پر لگا دیا جائے۔چوھدری نثار نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام رینجرز کی کارکردگی پر نہ صرف مطمئین ہیں بلکہ ان پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کی خاطر کراچی کے عوام کی سیکیورٹی پر کمپرومائز کرتی ہے۔واضح رہے کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات 14 اپریل کو ختم ہوگئے ہیں تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اب تک رینجرز اختیارات میں توسیع نہیں دی گئی جس کے بعد رینجرز نے کراچی میں اپنے تمام آپریشن ختم کردیئے ہیں جب کہ اہم مقامات اور چوکیوں سے بھی رینجرز کی نفری واپس جاچکی ہے۔