کسی سے ڈیل نہیں ہوئی،حکومت نے مذہبی جماعت سے معاہدہ کرکے غلطی کی: مراد علی شاہ

کسی سے ڈیل نہیں ہوئی،حکومت نے مذہبی جماعت سے معاہدہ کرکے غلطی کی: مراد علی شاہ
کیپشن:   کسی سے ڈیل نہیں ہوئی،حکومت نے مذہبی جماعت سے معاہدہ کرکے غلطی کی: مراد علی شاہ سورس:   file

اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کسی سے ڈیل نہیں ہوئی ۔ حکومت نے مذہبی جماعت سے معاہدہ کرکے پہلے بھی غلط کیا اب بھی وقتی معاہدہ کرکے غلطی کرے گی۔ ناموس ریاست پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتا۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے مذہبی جماعت کے ساتھ معاہدہ کر کے غلط کیا۔ حکومت اب بھی صورتحال پر وقتی قابو پانے کے لیے ان سے معاہدہ کر لے گی اور غلط کرے گی۔سندھ میں مذہبی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں۔بدقسمتی سے میں سندھ میں نہیں بلکہ یہاں اسلام آباد میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کل لاہور میں جو ہوا میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوا۔مفتی منیب الرحمان نے احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے کہ کوئی دکان بند کرنا چاہتا ہے تو کرے نہیں تو نہ کرے۔ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے لیکن دیکھنا ہے کسی اور مسلمان کو تکلیف ہے۔ 

اپنے خلاف نیب کیسز کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ 65 اور 68 والیم کی کاپی آج ملے گی تو دیکھوں گا کہ کوئی کام کی چیز ہے کہ نہیں۔ اتنا مہنگا تو منصوبہ نہیں جتنے یہ والیم بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ ایک کامیاب منصوبہ جو سندھ کی عوام کو 100 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

کرونا کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ  میں نےوزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے کورونا سے متعلق اجلاس میں  ٹرانسپورٹ کی بندش کی بات کی تھی مگر نہیں مانی گئی۔اب صرف  ایک دن میں ڈیڑھ سو کے قریب اموات ہوئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاق پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق فیصلوں میں صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیتا۔وزیراعظم کو کہوں گا کہ صوبوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ن لیگ کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔پیپلز پارٹی کیسز کا سامنا کر رہی ہے۔ہمارے خورشید شاہ ایک عرصہ سے جیل میں ہیں۔

قبل ازیں جعلی اکاونٹس سیکنڈل،نوری آباد پاور پلانٹ  اورمبینہ منی لانڈرنگ ریفرنس   پر سماعت احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے  کی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، خورشید انور جمالی سمیت دیگر ملزمان پیش  ہوئے۔

ملزمان کے وکلاء کی جانب سے عبد الغنی مجید سمیت دیگر کی حاضری سے استشنی کی درخواست  دی گئی۔وزیر اعلی مراد علی شاہ کی جانب سے حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کر دی گئی۔درخواست میں مئوقف اختیار کیاگیا کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال سازگار نہیں استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے۔

وزیر اعلیٰ کی درخواست پر  احتساب عدالت  جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ درخواست جمع کروا دیں ہم دیکھ لیتے ہیں۔  نیب پراسیکیوٹرنے عدالت سے استدعاکی کہ جو ملزمان پیش نہیں ہو رہے عدالت انکے وارنٹس جاری کرے ۔

 عدالت نے شریک ملزم محمد علی ظفر کے ناقابل وارنٹس گرفتاری جاری کر دئیے۔احتساب عدالت نے ملزمان کو ریفرنسز کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت  بھی کردی جس پر نیب پراسیکورٹر نے عدالت کوبتایا نیب ریفرنسز کی کاپیاں ملزمان کو فراہم کردینگے۔ریفرنس کی  سماعت پانچ مئی تک ملتوی کر دی گئی۔