قومی اسمبلی:حکومت کی طرف سے ٹی ایل پی معاملے پر پالیسی بیان نہ دینے پر اپوزیشن کا احتجاج

قومی اسمبلی:حکومت کی طرف سے ٹی ایل پی معاملے پر پالیسی بیان نہ دینے پر اپوزیشن کا احتجاج
کیپشن:   قومی اسمبلی:حکومت کی طرف سے ٹی ایل پی معاملے پر پالیسی بیان نہ دینے پر اپوزیشن کا احتجاج سورس:   file

اسلام آباد: حکومت کی طرف سے تحریک لبیک پاکستان کے معاملے پر قومی اسمبلی میں پالیسی بیان نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی بنانا حکومت وقت اور پارلیمنٹ کا کام ہے کسی اور کا نہیں۔تمام سڑکوں کو کھلا رکھنا حکومت کا فرض تھا۔ 

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ٹی ایل پی کے معاملے پر بحث ہو ئی ۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم سب غلامان رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ہم نے پاکستان میں یوم عشق رسول ﷺ منایا تھا، احتجاج کے دوران  پیپلزپارٹی نے اپنے ملک میں لوگوں کو گولیان نہیں ماری تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے پارلیمنٹ کی توہین کی . پالیسی بیان دینے کے بجائے  کہا گیا وزیرمذہبی امور یہاں پارلیمنٹ میں بیان دیں گے۔پالیسی بیان جمعہ کو آنا چاہیے تھا۔ نورالحق قادری شریف آدمی ہیں یہ ان پر ذمہ داری ڈالنا چاہتے ہیں۔جو حکومت کر رہی ہے اس سے مسائل بڑھ جائیں گے کم نہیں ہوں گے۔موجودہ حکومت سےزیادہ فاشسٹ حکومت پہلے نہیں آئی۔

  

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس وقت جو کچھ ملک میں ہورہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔یہاں آج کوئی ایک دوسرے کی عزت کرنے کو تیار نہیں تھی۔ پی ٹی آئی نے معاشرے کو تقسیم کردیا ہے ۔انہوں نے جو ترجمان رکھے ہوئے ہیں ان کی گز،گز لمبی زبانیں ہیں۔آج وزیراعظم کو یہاں موجود ہونا چاہئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو معاہدہ کیا وہ کس نے انہیں اختیار دیا تھا کرنے کا۔حکومت نے اس معاہدے کو پارلیمان میں لانے کی زحمت نہ کی۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی یہ کتنا حساس معاملہ ہے۔ وزیراعظم آئے دن ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔کیا ریاست مدینہ میں ایسے معاملات ہوتے ہیں۔ملک میں میڈیا کا مکمل بلیک آؤٹ ہے۔

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی کا تعین کرنا حکومت وقت اور پارلیمنٹ کا کام ہے۔ کسی اور کا نہیں ۔جنازے اور نماز پڑھنے کے لیے بھی سڑک بلاک نہیں کی جاسکتی ۔احتجاج کے باعث بندروڈ کھلوانا حکومت کی ذمہ داری تھی۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے معاہدے پر آج بھی قائم ہے۔ ہم نے تحریک لبیک والوں کو کہا تھا کہ معاملہ پارلیمنٹ لے جائیں گے جہاں کمیٹی بنے گی ۔آپ اپنا موقف اس کے سامنے رکھنا اور خارجہ پالیسی کے ماہرین بھی اپنا نقطہ نظر دیں گے اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی جو فیصلہ کرے گی اس کو حکومت من و عن مانے گی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی ہم معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ احتجاج کی کال دے دی گئی ۔مجبوراً ہمیں ایکشن لینا پڑے ۔ حکومت کوشش کر رہی ہے مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔کل بھی مذاکرات ہوئے، آج بھی ہوئے اور رات کو تراویح کے بعد بھی ہوں گے۔

جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالشکور نے کہا کہ  ہم تحریک لبیک کے ساتھ ہیں،ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔یہ وزیرداخلہ کی ذمہ داری تھی وہ یہاں پالیسی بیان دیتے۔وزیرداخلہ شیخ رشیدکو ایوان کا سامنا کرنا چاہئےاورجواب دینا چاہئے۔ آج جو لوگ توہین رسالت ﷺ کر رہے ہیں وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جو توہین رسالت ﷺ کرے وہ سزائے موت کا مستحق ہے۔جن لوگوں نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا وہ کون تھے؟ کیا ان پر کسی نے گولی چلائی تھی یا انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا؟وزیرداخلہ کا حکومت سے آنے پہلے جلاؤ گھیراؤ کا بیان سب کے سامنے ہے۔