کورونا نے سابق آئی جی ناصر درانی کی جان لے لی

کورونا نے سابق آئی جی ناصر درانی کی جان لے لی
کیپشن:   کورونا نے سابق آئی جی ناصر درانی کی جان لے لی سورس:   فائل فوٹو

لاہور: کورونا وائرس کی تیسری لہر نے سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا ناصر درانی کی جان لے لی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق آئی جی کورونا وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے وہ گزشتہ دس روز سے میو ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر افتخار کے مطابق سابق آئی جی ناصر درانی کو پھیھڑوں میں انفیکشن اور سانس میں دشواری کا سامنا تھا۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر تھے۔

خیال رہے کہ آئی جی خیبرپختونخوا کی عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2018 میں پنجاب حکومت نے سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن بناتے ہوئے پولیس میں اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا تھا تاہم چند ماہ بعد ہی ناصر درانی نے آئی جی پنجاب طاہر خان کی تبدیلی اور پولیس میں سیاسی مداخلت کے معاملے پر استعفی دے دیا تھا ۔

انہوں نے تبادلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے پنجاب پولیس میں اصلاحات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور پولیس میں عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ہم ایس او پیز پر عمل نہ کر کے بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں، ملک میں کورونا کی بگڑتی صورتحال سے خبردار کردیا ہے۔

اپنے ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال مسلسل بھر رہے ہیں اور کورونا کے تشویشناک مریضوں کی تعداد 4500 تک پہنچ گئی ہے۔ تشویشناک مریضوں کی موجودہ تعداد گزشتہ سال جون کی نسبت سب سے زیادہ تعداد سے 30 فیصد زائد ہے جبکہ آکسیجن کی فراہمی اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کم ہو رہا ہے اور جب سے کورونا آیا ہے تب سے متاثرین کی تعداد بہت خراب دیکھ رہے ہیں اور ہمارا ہمسایہ ملک شدید بحران میں ہے۔ ایران میں روزانہ 300 سے زائد اموات اور بھارت میں روزانہ 1600 سے زائد اموات ہو رہی ہیں۔ ہمیں پہلے سے زیادہ حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے اور ملک میں آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت اب دباؤ کا شکار ہے۔ ایک دفعہ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں۔