روشنی کا سفر

روشنی کا سفر

المصطفیٰ ٹرسٹ کی بنیاد 1983ء میں کراچی میں مردِ درویش اور سابق وفاقی وزیر محمد حنیف طیب نے رکھی تھی‘اس ٹرسٹ کا مقصد صرف اور صرف انسانی خدمت تھی‘اس ٹرسٹ کے بینر تلے دکھی‘لاچار اور بے بس لوگوں کو سہارا دیا گیا‘انھیں اندھیروں کی دنیا سے نکال کر ’’روشنی‘‘کی دنیا میں لایا گیا ہے۔اس ٹرسٹ نے بیک وقت کے زندگی کے کئی شعبوں میں کام کیا اور ہر شعبے میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے،خیر اور بھلائی اسے کہتے ہیں کہ آپ بغیر کسی لالچ اور طمع کے لوگوں کے لیے نفع سوچیں‘ان کے لیے سیدھے اور سچے راستوں کا تعین کریں‘ایسے لوگوں کی آواز سنیں‘جن کی کوئی نہیں سنتا ۔جب آپ ایسے لوگوں کا درد بانٹتے ہیں جن کا درد سننے والا کوئی نہیں ہوتا توخدا آپ کا درد بانٹتا ہے‘خدا آپ کی تنہائی بانٹتا ہے‘خدا آپ کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے۔المصطفیٰ ٹرسٹ نے بھی یہی کام کیا‘خیر کا یہ کام جو کراچی کی ایک چھوٹی سی کچی بستی سے شروع ہوا تھا‘آج اس کا نیٹ ورک بنگلہ دیش‘نائجیریا‘افغانستان‘عراق اور برما سمیت دنیا کے دس سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔یہ سچ ہے کہ اگر مقصد بڑا ہو اور اس میں لالچ کی رتی بھی شامل نہ ہو تو خدا آپ کے سارے معاملات خود دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔

المصطفیٰ نے سب سے پہلا کام لوگوں کی آنکھوں کی روشنی بحال کرنے کا کیا‘انھوں نے کراچی سے مفت آئی کیمپ لگانا شروع کیے جو دنیا کے دس سے زائد ممالک تک لے کر پہنچے۔سال 2022ء میں آئی کیمپس کی تعداد ہوش ربا ہے یعنی المصطفیٰ نے گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان میں 603 ‘غزہ فلسطین میں 62‘ بنگلہ دیش میں 298 ‘برما میں 21‘ گیمبیا میں 106 ‘سوڈان میں 21‘کینیا میں 33 اور سری لنکا میں 39 فری آئی کیمپ لگائے۔ پاکستان کے سرکاری و نجی سکولوں میں 1000 سے زائد بچوں کی آئی سکریننگ کی گئی‘ ان کی آنکھوں کے لیے ادویات فراہم کی گئی‘ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں جا کر لوگوں کی آنکھوں کا علاج کیا گیا۔آپریشن سے قبل مریضوں کے بلڈ پریشر‘شوگر‘ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے مفت ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں‘یہاں تک کے ان کے ادویات بھی ٹرسٹ کی جانب سے مہیا کی جاتی ہیں اور یوں اندھیروں کا سفر کر کے یہاں پہنچنے والے روشن آنکھیں لیے گھروں کو لوٹتے ہیں۔المصطفیٰ ٹرسٹ نے کامیاب کیمپوں اور آپریشنز کے بعد نومبر ۲۰۲۰ء میں لاہور میں ٹرسٹ آئی ہسپتال کی بنیاد رکھ دی‘افتتاح کے بعد ایک سال کے عرصے میں المصطفیٰ ٹرسٹ نے چار ہزار سے زائد آنکھوں نے مفت آپریشن کیے اور لاہور میں آنکھوں کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا پہلا ہسپتال بن گیا۔ایک سال کے دوران لاہور اور اس کے گردونواح میں لگائے جانے والے مفت کیمپوں سے ایک لاکھ پندرہ ہزار لوگوں نے استفادہ کیا‘اس ہسپتال میں میو ہسپتال کے شعبہ امراضِ چشم کے چیئرمین اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سرجن کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔گزشتہ برس ایک سال کے دوران صرف لاہور میں اٹھائیس ہزار نظر کے چشمے تقسیم کیے گئے۔

المصطفیٰ ٹرسٹ کا دوسر ااہم کام المصطفیٰ دستر خوان ہے جہاں سے پانچ سو افراد روزانہ دوپہر اور شام کا کھانا مفت کھاتے ہیں‘ رمضان میں افطارکرنے والوں کی تعداد ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں یعنی ایک سال کے دوران المصطفیٰ دستر خوان سے ایک لاکھ چھیانوے ہزار لوگوں نے کھانا کھایا۔یہاں کھانے کی تقسیم بلا امتیاز رکھی گئی‘ملازمت پیشہ ہیں یا دیہاڑی داڑ‘مسکین ہیں یا خانہ بدوش‘اس دستر خوان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔رمضان میں ایک دن کی افطاری کا خرچہ بیس ہزار تک پہنچ رہا ہے جو المصطفیٰ ٹرسٹ کے ڈونرز برداشت کرتے ہیں‘ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ حقیقی معنوں میں’’کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘۔المصطفیٰ کا تیسرا اہم کام رمضان فوڈ بیگز کی تقسیم ہے‘ٹرسٹ کی طرف اسے ہر سال رمضان المبارک کے دوران غریب خاندانوں میںفو ڈ پیکیج تقسیم کرنے کی روایت بھی برسوں پرانی ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت اب تک اسی ہزار گھرانوں کو فوڈ بیگز تقسیم کیے جا چکے۔المصطفیٰ ٹرسٹ کا چوتھا اہم کام ونٹر پروجیکٹ ہے‘سردیوں کے موسم میں مستحق افراد اور غریب خاندانوں کے لیے رضائیاں‘گرم کپڑے‘ جرسیاں اور گرم چادریں تقسیم کی جاتی ہیں‘اب تک پچاس ہزار خاندانوں کو’’ ونٹر پیکیج ‘‘ دیا جا چکا‘ایک پیکیج کی قیمت دس سے بارہ ہزار ہوتی ہے۔یہ کام صرف غریب گھرانوں تک محدود نہیں بلکہ ٹرسٹ کی ٹیم فٹ پاتھوں‘پارکوں اور کھلے آسمان کے نیچے سونے والوں کو بستر فراہم کرنے کی مہم بھی چلا رہی ہے۔

المصطفیٰ کا پانچواں اہم کام کلین واٹر پراجیکٹ ہے‘اس پراجیکٹ کے تحت اب تک اکیس ہزار پانی کے نلکے‘ چھ ہزار پانی کی موٹریں‘چار سو پانی کے کنویں‘ پانچ سو ٹیوب ویل اور ستائیس سولر پانی کے کنویں نصب کیے جا چکے۔اس ٹرسٹ کا چھٹا کام قربانی پراجیکٹ ہے‘گزشتہ برس میں تیس شہروں میں گیارہ سو جانور ذبح کر کے اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کیا گیا‘اجتماعی قربانیاں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کی جاتی ہیں۔المصطفیٰ ٹرسٹ کے ۲۱ سکولز میں آٹھ سو بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘تین ہزار چھے سو اناسی یتیم بچوں کو سپانسر کیا جا رہا ہے‘المصطفیٰ ٹرسٹ کی جانب سے پچیس نئی مساجد کی تعمیر کی گئی اور پچاس پرانی مساجد کو ازسرِ نو تعمیر کی گیا۔اس ٹرسٹ نے گیارہ سو پچاس معذور افراد کے لیے سمال بزنس کا اہتمام کیا‘ہونٹ کٹے‘تالو کٹے بچوں کے آٹھ ہزار آپریشن کیے گئے‘دو سو ایمبولینس شروع کی گئیں‘اجتماعی شادیوں کا آغاز کیا گیا‘شام اور یمن کی خانہ جنگی میں متاثرین کو امداد فراہم کی گئی‘ایک ملین پونڈ کی رقم روہنگیا اور برما کے مظلومین کی داد رسی کے لیے پہنچائی گئی‘مقبوضہ کشمیر میںتاریخ کے طویل ترین کرفیو اور سخت ترین لاک ڈائون سے متاثرہ کشمیری بچوں کے لیے عالمی سطح پر ’’سیو آور چلڈرن ان کشمیر‘‘کی مہم چلائی گئی ‘انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے مبصرین کو کشمیر لے جایا گیا‘ہزار ٹرکوں پر مشتمل راشن پہنچایا گیا اور کشمیریوں کا حقیقی معنوں میں سہارا بنا گیا۔

دوستو! یہ المصطفیٰ ٹرسٹ کے کام کا ایک اجمالی جائزہ تھا ‘اس ٹرسٹ کے کاموں کی فہرست انتہائی طویل اور توجہ طلب ہے۔اس ٹرسٹ نے دنیا بھر کے دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے اور یہ کام آپ جیسے دردِ انسانیت رکھنے والے دوستوں کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔آپ دامے ‘دِرمے ‘سخنے المصطفیٰ ٹرسٹ کا سہارا بنیں اور دکھی اور لاچار لوگوں کی دعائیں حاصل کریں۔

مصنف کے بارے میں