حکمرانوں سے حکمت کی کچھ باتیں (۱)

حکمرانوں سے حکمت کی کچھ باتیں (۱)

انسان کا یہ ایک عمومی المیہ ہے کہ قوت اور اقتدار کے ملتے ہی اپنے فانی اور زوال پذیر ہونے کی اٹل حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا مگر عہدِ موجود میں اس کی شدت بڑھ گئی ہے۔ نام نہاد جمہوری طرز حکومت میں عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والوں کا پہلا ہدف بیچارے زود فراموش کردہ، عوام ہی بنتے ہیں۔ پوری دنیا میں اور خصوصاً مشرقی ممالک میں حاکم اور محکوم کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلے ہیں کہ آشوبِ قیامت برپا کیے ہوئے ہیں اور کسی طرح سمٹنے ہی میں نہیں آتے۔ نتیجۃً عوام کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور امنگیں آخری سسکی لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔ اے کاش مقتدر قوتوں کو یہ احساس دامن گیر رہتا کہ اقتدار ایک ڈھلتے سایے اور آفتابِ لبِ کوہ کا نام ہے اور عوام کی فلاح و صلاح ہی ان کے اقتدار کا واحد جواز ہے۔ حاکم و محکوم کے تعلقات کی نازک نوعیت پر غور کرتے ہوئے میرے حافظے کے افق پر ایک ننھی سی کتاب گویا کِتَبْیا کا تیز کوندا چمکا: ’’تحفۂ خسروی‘‘ اردو کے نامور ادیب ، صاحب اسلوب نثر نگار اور عالم مولانا عبدالماجد دریا بادی کی ایک مختصر سی مگر نہایت مفید تالیف، جس میں انھوں نے اکابرِ اسلام کے بے مثل ذخائر کتب سے مسلمانوں کے فلسفۂ حکومت و نظام سیاست کے تقاضوں کو نہایت خوبی سے اقتباسات کی صورت میں یکجا کر دیا۔ یہ کتاب اب سے ٹھیک ایک سو ایک برس پہلے شائع ہوئی۔ عدل اور آدابِ جہانبانی پر اس مجموعے میں قرآن، حدیث ، اخلاقِ جلالی ، اخلاق محسنی ، مثنویِ معنوی ، شاہنامہ ، گلستاں ، بوستاں، کیمیائے سعادت ، سیاست نامہ اور بہارستان سے حکمت کے انمول موتی چنے گئے ہیں۔ اقوال ، ارشادات اور مختصر حکایات پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر دانشِ خالدہ کے زندہ و پائندہ عناصر سمیٹے ہوئے ہے اور کل کی طرح آج کے حاکموں کی سمتِ سفر کے تعین میں بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیے آپ کو بھی اس آئینہ خانے کی سیر کرائیں: 

حضرت عبداللہ بن مبارکؓ کا مقولہ تھا ’’اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ زندگی بھر میں میری ایک دعا قطعاً قبول ہو گی تو میں اچھے حکمران کے موجود ہونے کی دعا کروں گا کہ اس کے اچھے ہونے سے اصلاحِ خلق از خود ہو جائے گی۔ غور کیا جائے تو یہ آخری جملہ حضور اکرم ؐ کے اِس ارشاد کا خلاصہ ہے کہ الناسُ علیٰ دینِ مُلُوکِھِم  (یعنی عام لوگوں کا چلن وہی ہوتا ہے جو ان کے حاکموں کا ہوتا ہے)

 عدل کے باب میں ملک الاسلام کے نام امام غزالی کے مکتوبات بھی قارئین کی توجہ چاہتے ہیں۔ ایک خط میں فرماتے ہیں: روئے زمین کی مملکت مشرق سے مغرب تک ہے، اس سے زیادہ نہیں اور دنیا میں آدمی کی عمر سو برس سے زیادہ شاید ہی ہوتی ہو۔ اس دنیا کی بادشاہت اگلی دنیا کی بادشاہت کے مقابلے میں مٹی کے ڈھیلے کی ہے اور روئے زمین کی تمام ولایتیں اِس ڈھیلے کے گردوغبار سے عبارت ہیں اور مٹی کے ڈھیلے کی گرد کوئی قیمت نہیں رکھتی اور مُلکِ ازل و ابد اور جاوداں بادشاہی کے مقابلے میں سو سال کی کیا حیثیت ہے۔ سو اللہ سے جاوداں بادشاہی کی آرزو کر۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ سلطانِ عادل کا ایک روزِ عدل، ساٹھ سالہ عبادت پر فضیلت رکھتا ہے۔ اگر دنیا سونے کے پیالے کی طرح ہوتی کہ نہ رہتی اور آخرت مٹّی کا پیالہ ہوتی کہ اسے دوام ملتا تو عقل مند آدمی مٹ جانے والے زریں کُوزے پر باقی رہ جانے والے مٹی کے پیالے کو ترجیح دیتا۔ 

ایک اور مکتوب میں انھی ملک الاسلام کو رعیت کے آرام و آسائش اور اس کی طرف مُلتفت اور متوجہ رہنے کی ان الفاظ میں تلقین کرتے ہیں: اے بادشاہ ! تو نے دنیا کے لیے بڑی دولت، لشکر اور خزانہ اکٹھا کر لیا، آخرت کے لیے بھی اکٹھا کر اور آخرت 

کے مقام اور مدت کے مطابق اکٹھا کر اور اس لیے بھی اکٹھا کر کہ ایمان اس درخت کی طرح ہے کہ اطاعت کا پانی پیتا ہے اور اس کی جڑ عدل پر قائم ہے اور جڑ اللہ کے ذکر سے مضبوط ہوتی ہے۔ اے بادشاہ! میری ایک نصیحت مان لے۔ کلمۂ توحیدکو ہر وقت وردِ زبان رکھ۔ جب کوئی نہ ہو تب بھی پڑھ، اگر شکار گاہ میں ہو تب بھی، اگر تخت پر ہو تب بھی کیونکہ اسی سے ایمان میں رسوخ اور پختگی آتی ہے۔ اگر تجھے آخرت کے عذاب سے نجات مل بھی گئی تو آخرت کے سوال سے نجات نہیں ملے گی۔ 

حضورؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص [اپنے اپنے دائرے میں] راعی ہے اور ہر شخص جوابدہ ۔ اور اگر تجھے سزا دیں اور کہیں کہ ہم نے اپنے بندوں اور کلمہ گوؤں کو تیری رعیت کیا اور تجھے چند گھوڑے بھی دیے۔ تو نے بندوں کے بجائے گھوڑوں سے دل لگالیا۔ جہاں تک سرسبز اور شاداب مرغزار تھے، تو نے انھیں اپنے چوپایوں کے لیے چراگاہ بنا لیا اور ہمارے بندوں سے غافل رہا۔ تو نے ہمارے عزیزوں کو چوپایوں کی خاطر پسِ پشت ڈال دیا جبکہ ہم نے کہہ رکھا تھا کہ مومن کی حرمت ہماری بارگاہ میں کعبے سے بڑھ کر ہے۔ تیرے پاس اس سوال کا کیا جواب ہو گا۔ 

روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر الخطاب نے اپنے والد کی رحلت کے وقت ان سے پوچھا کہ آپ سے کب ملاقات ہو گی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : دوسرے جہان میں۔ عرض کیا زیادہ جلد چاہتا ہوں۔ فرمایا: میرے کوچ کر جانے کی پہلی ، دوسری یا تیسری رات تو مجھے خواب میں دیکھے گا ۔ پہلی ، دوسری یا تیسری رات تو کیا اُس وعدے پر پورے بارہ برس بیت گئے اور بیٹے نے انھیں خواب میں نہ دیکھا۔ بارہ برس کے بعد حضرت عمرؓ ان کے خواب میں آئے ۔ عرض کیا: اے ابّا جان کیا آپ نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ تیسری رات تجھے خواب میں ملوں گا۔ فرمایا: میں بڑا مشغول تھا اور سخت مشکل میں گرفتار۔ دراصل میرے زمانۂ خلافت میں بغداد میں ایک پُل ویران اور شکستہ ہو گیا تھا اور اس کی مرمت نہ ہو سکی تھی۔ ایک بھیڑ کا پاؤں اس کے سوراخ میں الجھ کر ٹوٹ گیا تھا۔ سو اب تک اس کوتاہی اور غفلت کا جواب دے رہا تھا۔ ایک طرف ایک ہلکی سی غفلت پر اس شدت کی باز پرس اور دوسری طرف ہمارے حاکموں کی سنگدلانہ بے نیازی کہ یہاں سیکڑوں ہزاروں انسان کے دل روزانہ ٹوٹتے ہیں، ان کی آرزوؤں کا خون ہوتا ہے، ان کی زندگی کی کھیتیاں روزانہ پامال اور برباد کی جاتی ہیں، وہ غربت اور فقر کی زیریں ترین لکیر کے نیچے زندگیاں گزارتے ہیں مگر کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں۔ بس رسمیں رہ گئی ہیں یا سوشل میڈیا پر دن رات کی بازیگری اور فوٹو سیشن ۔ قارئین کرام! آپ کو یاد ہو گا کہ ایک نام نہاد استحصالی ادارہ جسے یو این او کے نام سے جانا جاتا ہے، ہر سال دل کی حفاظت کا عالمی یوم مناتا ہے۔ میں نے اس عالمی ریاکاری پر مدتوں پہلے ایک شعر کہا تھا: 

یہ دے رہے ہیں خبر دل کو توڑنے والے

کہ آج دل کی حفاظت کا عالمی دن ہے!

چلتے چلتے ایک واقعہ صدیوں پرانے ایرانی حاکم بہرام گور کا بھی سنتے جائیے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ نہایت گرمی کے موسم میں ایک دن بہرام گور کا گزر ایک باغ کے قریب ہوا۔ ایک بڈھا باغبان وہاں موجود تھا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا :کیا اس باغ میں انار ہے۔ جواب ہاں میں آنے پر کہا: انار کا رس لا۔ بڈھا گیا اور جھٹ پٹ انار کے رس کا بھرا پُرا پیالہ پیش کر دیا۔ بہرام نے رس نوش کیا۔پھر باغبان سے پوچھا کہ اس باغ سے سالانہ کتنی آمدنی ہو جاتی ہے۔ اس نے کہا تین سو دینار ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ اس آمدنی پر کتنا ٹیکس دیتے ہو۔ باغبان نے کہا ہمارے بادشاہ نے باغوں کی آمدنی پر مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ہاں زراعت پر عُشر لیتا ہے۔ بادشاہ نے دل میں سوچا ملک میں بہت سے باغ ہیں اور ان میں بے شمار درخت ، سو ان پر بھی عشر لینا چاہیے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد اس نے باغبان سے انار کے رس کا ایک اور پیالہ لانے کو کہا۔ باغبان خاصی دیر کے بعد رس لایا۔ بادشاہ نے تعجب کرتے ہوئے پوچھا کہ پہلی بار تو تُو فوراً بھرا پیالہ لے آیا تھا، اب کے بہت دیر لگائی اور پیالہ بھی پہلے رس کے برابر نہیں، بہت کم ہے، اس کی وجہ ؟ بڈھے باغبان کو معلوم نہ تھا کہ یہی بہرام ہے۔ اس نے کہا : اے جوان میرا کوئی قصور نہیں ، بادشاہ کا ہے ۔ لگتا ہے اس کی نیت بدل گئی اور اس نے ظلم کا ارادہ کر لیا۔ نتیجۃً پھل سے برکت اٹھ گئی۔ پہلی مرتبہ صرف ایک انار کے نچوڑنے سے پیالہ بھر گیا تھااور اب کی بار دس اناروں سے بھی اتنا رس حاصل نہ ہو سکا! سو صاحبو! حاکم اور عوام اور راعی و رعیت کے درمیان ختم نہ ہونے والی خلیج ایک مدت سے حائل ہو چکی ہے ۔ حاکم کا مقصدِحیات عوام کے لیے راحت رسانی نہیں، ڈاکہ زنی ہے۔ فتو ر نیّت کے باعث باغوں، چراگاہوں، مالیاتی اداروں سے برکت اٹھ گئی ۔ اب صورتِ حال یہ ہو چکی کہ ہمارے حاکم ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ’’غلامِ بادام‘‘ ہو چکے اور ان کے پے در پے احکامات کی بجاآوری میں عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کے درپے ہیں۔ حضور اکرم ؐ کا ارشاد اپنے اندر کیسی آفاقی صداقت رکھتا ہے جب آپؐ نے فرمایا: اگر حاکم وقت عدل اختیار کرتا ہے تو رعایا کی ہر نیکی میں شریک ہوتا ہے اور اگر ظلم و ناانصافی کرتا ہے تو رعایا کے ہر گناہ میں وہ بھی شریک ہوتا ہے۔ کیا ہمارے موجودہ اور سابقہ حاکم عدل اور رعایا پروری کی برکات کو اپنے نظام نامے کا حصہ بنانے پر آمادہ ہیں۔ ہماری اجتماعی بقا اسی زریں اصول سے مشروط ہے ۔ 

مصنف کے بارے میں