بربریت کاشکارارشاد علی نے بھارت کا گھناونا چہرہ بے نقاب کر دیا

بربریت کاشکارارشاد علی نے بھارت کا گھناونا چہرہ بے نقاب کر دیا

نئی دہلی :بھارتی پولیس نے ارشاد کو 1997 میں 29 سال کی عمر میں پہلی بار گرفتارکیا،، تشدد کیا اور 2003 میں 'خبری 'بننے پر مجبور کیا.ارشاد نے اپنی جان بچانے کے لیے چند سال" بھارتی انٹیلی جنس بیورو "کے لیے مخبری کی2003 میں ارشاد کو مقبوضہ کشمیر کے راستے آزاد کشمیر بھیجنے کی کوشش کی لیکن بھارتی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں پکڑا گیا.


2005. میں ارشاد کو پاکستان جاکر دہشت گرد نیٹ ورک بنانے کا ٹاسک دیا گیا.جس کے انکار پر انہیں تہاڑ جیل میں پھینک دیا گیا۔

ارشاد کا کہنا ہے کہ پولیس مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے لیکن انھیں دہشت گرد بھارتی میڈیا ثابت کرتا ہے۔ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد ارشاد کا مقدمہ سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ 11 نومبر 2008 کو سی بی آئی نے رپورٹ پیش کی جس کے بعد ارشاد اد اور اس کے بھائی کو 2009 میں ضمانت تو دے دی گئی لیکن آج تک انصاف نہیں دیا گیا.