انسانیت کی مسیحا، ڈاکٹر ر تھ فا ئو سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں سپردخاک

 انسانیت کی مسیحا، ڈاکٹر ر تھ فا ئو سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں سپردخاک

کراچی:جذام کے مریضوں کا علاج کرنے والی 'پاکستان کی مدر ٹریسا' ڈاکٹر ر تھ فا ئو کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، رتھ فائو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیاگیا ،ان کی آخری رسومات سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی گئیں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق آنجہانی ڈاکٹر ر تھ فا ئوکی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔


مسلح افواج کے اہلکار ڈاکٹر ر تھ کے جسدِ خاکی کو کراچی کے علاقے صدر میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ میں لے کر داخل ہوئے جبکہ ان کا تابوت پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔ڈاکٹر ر تھ فا ئوکی تدفین دوپہر 2 بجے گورا قبرستان میں ہوئی ۔

صدر مملکت ممنون حسین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،ایئر چیف سہیل امان، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی ایم شیخ سمیت کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید،آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ اور تینوں مسلح افواج کے نمائندوں کے علاوہ سمیت متعدد اہم سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی رتھ فائو کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر رتھ فا ئوکو 19 توپوں کی سلامی دی جبکہ تینوں مسلح افواج کے دستوں نے ان کی قبر پر گارڈ آف آنر پیش کیا،صدر مملکت ، آرمی چیف ،ایئر چیف ، گورنر سندھ اوروزیراعلیٰ سندھ نے قبر پر پھول بھی چڑھا ئے۔

واضح رہے کہ آخری رسومات کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں نے ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں۔جذام/کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی 'پاکستان کی مدر ٹریسا' ڈاکٹر ر تھ فائو گذشتہ ہفتے (10اگست)کی رات کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔

کراچی کے علاقے صدر میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے قائم میری ایڈیلیڈ سینٹر کے سی ای او کے مطابق 88 سالہ ڈاکٹر ر تھ فائو 2 ہفتے سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ڈاکٹر ر تھ فائو 1960 میں جرمنی سے پاکستان آئی تھیں، انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر ر تھ فائو کو 1988 میں پاکستانی شہریت دی گئی، ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان کو 1996 میں جذام فری ملک قرار دیا گیا۔پاکستان میں ایک طویل عرصے سے کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ر تھ کیتھرینا مارتھا فائو 9 ستمبر 1929کو جرمنی کے شہر لائپزگ میں پیدا ہوئیں۔

ڈاکٹر ر تھ فا ئونے 1960 میں پاکستان آکر میکسیکو سے تعلق رکھنے والی سسٹر بیرنس کے ساتھ کوڑھ یعنی جذام کے مرض کے خاتمہ کے لیے کوششیں شروع کیں اور اپنی ساری زندگی پاکستان میں ہی گزار دی۔ہر صبح 81 سالہ ر تھ فائو کراچی کے سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں کھڑی بند آنکھوں اور جھکے سر کے ساتھ اپنا دایاں ہاتھ دل پہ رکھے دعا مانگ رہی ہوتی تھیں۔

مادام ر تھ فائو نے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر قائم کیا اور اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔جس زمانے میں پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کو شہر سے باہر منتقل کردیا جاتا تھا اور ان کے اپنے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیتے تھے۔

ایسے میں ڈاکٹر ر تھ فائو اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں۔ڈاکٹر فا ئوکو ان کی گراں قدر خدمات پر پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، جناح ایوارڈ اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا جبکہ جرمن حکومت نے انہیں بیم بی ایوارڈ اور آغا خان یونیورسٹی نے ر تھ فا ئوکو ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔