شہباز گل کا معاملہ

شہباز گل کا معاملہ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے نجی ٹی وی چینل پر جو کچھ کہا سوچے سمجھے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ کیس اس قدر واضح ہے کہ خود اے آر وائی کو نہ صرف معذرت کرنا پڑی بلکہ اظہار مذمت بھی کیا گیا۔اور تو اور عمران خان بھی مان رہے ہیں کہ جو بات شہباز گل نے کی وہ نہیں کرنا چاہیے تھی کیونکہ اس سے فوج میں بغاوت کرانے کا تاثر ابھرتا ہے۔لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔وفاقی حکومت کو مقتدر حلقوں کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کی منصوبہ بندی بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں کی گئی جس میں بعض سابق وزرا اور چند اینکروں نے شرکت کی۔فوج میں بغاوت کرانے کا پیغام جاری کرنے کے لیے شہباز گل نے جو گفتگو کی اس کا متن پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ یعنی اصل منصوبہ سازوں نے ایک ایک لفظ پر مہر تصدیق و توثیق ثبت کر رکھی تھی۔اسی لیے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی شروع کی تو چینل انتظامیہ اور عملے پر بھی مقدمہ درج کیا گیا۔چینل کا (این او سی) اجازت نامہ بھی منسوخ کردیا گیا۔اس موقع پر حسب روایت انصاف تیزی سے حرکت میں آیا۔سندھ ہائیکورٹ نے چینل کے گرفتار صحافی کے خلاف ایف آئی آر اڑا کر رہائی کا حکم دے دیا۔این او سی کی منسوخی کا حکم بھی ختم کردیا۔ایک اینکر کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مل گئی جبکہ ایک خوامخواہ ملک سے فرار ہوگیا۔ وہ یہاں رہتا تو یقیناً اسے بھی فوری انصاف مل جانا تھا۔ خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا وہ جب چاہے واپس آئے اپنے لیے عدالتوں کے دروازے کھلے پائے گا۔فوج میں بغاوت کرانے کی اس کوشش پر ادارے کا حرکت میں آنا یقینی تھا۔اسی لیے مذکورہ چینل اور پی ٹی آئی نے ابتدا میں ہی اعتراف کرلیا کہ شہباز گل قصور وار ہے۔لیکن یہ محض غلطی  یا کسی کی بھول نہیں بلکہ انتہائی سنگین جرم ہے۔اس کے باوجود وفاقی حکومت کو شہباز گل پر مقدمہ چلانے کے لیے بہت زور لگانا پڑ رہا ہے۔مقدمے کی سنگینی کے حوالے سے جو بات عمران خان اور اے آر وائی کو سمجھ میں آ چکی۔وفاقی حکومت وہی بات عدالتوں کو سمجھا نہیں پا رہی۔سمجھنے سمجھانے سے یاد آیا وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر جب چودھری شجاعت نے ق لیگ کے ارکان کو پابند کیا کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دئیے جائیں۔اس خط کا پتہ چلتے ہی مونس الٰہی کو بات سمجھ آگئی تھی اسی لیے فوراً کہہ اٹھے ہم ہار گئے ہیں۔بہر حال ان کے مخالف حمزہ شہباز یہی بات عدالت کو نہ سمجھا پائے نتیجتاً اقتدار سے محروم ہوکر آج کل لندن کی ہوا کھا رہے ہیں۔یہاں مونس الٰہی اپنے والد پرویز الٰہی کے ساتھ وزارت اعلیٰ کے مزے لے رہے ہیں۔لگتا نہیں کہ وفاقی حکومت اپنے طور پر شہباز گل کے خلاف عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے کی پوزیشن میں ہے۔ جہاں تک متاثرہ ادارے کی بات ہے تو فی الحال یہی نظر آرہا ہے کہ سب کی آنکھیں نومبر میں ہونے والی نئی تقرری پر لگی ہوئی ہیں۔شاید فوجی افسروں کی اسی مصروفیت کے سبب پی ٹی آئی کو اپنے پر اور پھیلانے کاموقع مل رہا ہے۔شہباز گل صرف عمران خان کے ہی لاڈلے نہیں بلکہ انہیں وہی حلقے سیاست میں لائے تھا جو نیا پاکستان بنانے کا مشن سرانجام دے رہے تھے 

۔سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے جس نچلی سطح کی گفتگو کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا شہباز گل اس کے لیے پرفیکٹ ماڈل بن کر سامنے آئے۔شہباز گل کی بد زبانی اس حد تک بڑھی کہ صحافیوں سے بھی الجھنا شروع ہو گئے۔ پنجاب میں بزدار سرکار کی ڈیوٹی کرتے ہوئے ایک روز ایک ایسے ڈی جی پی آر کو مارنے کو لپکے جس نے اپنی سروس کے دوران شاید ہی کبھی  اونچی آواز میں بات کی ہو۔متعلقہ بیٹ کور کرنے والے صحافی بتایا کرتے تھے کہ ایک تو ہمیں اس بدتمیز اور اوچھے کردار کا سامنا ہے اور دوسری جانب طاقتور ادارے کے افسر فون کرکے کہتے ہیں“ گل ہمارا بھائی ہے اس کا خاص خیال رکھنا“۔ایک وقت آیا کہ بزدار نے زچ ہوکر شہباز گل کی چھٹی کرادی۔یہ بے روزگار ہوکر اسلام آباد جا پہنچے اور نعیم الحق مرحوم کے  ذریعے پھر سے انٹری ڈال دی۔یاد رہے کہ نعیم الحق مرحوم بھی عمران خان کے چیف آف سٹاف ہی تھے۔یہ ماننا ہوگا کہ شہباز گل عام آدمی نہیں۔ان کی ایک ویڈیو موجود ہے جس میں تقریر کرتے ہوئے کھل کر سی پیک کی مخالفت کررہے ہیں۔غالباً یہ تقریب عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے یا قریب قریب انہی دنوں کی ہے۔اس کے بعد سب نے دیکھا کہ پوری رفتار سے چلتا ہوا سی پیک ٹھکانے لگا دیا گیا۔یہ ایک واقعہ  ہی شہباز گل کو انتہائی بااثر ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ فوج میں بغاوت کرانے کے کیس میں شہباز گل کو عدلیہ کے ذریعے کلین چٹ دلا دی جائے گی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو  اس کا ایک ہی مطلب ہوگا کہ ادارے کے خلاف ہر ایرے غیرے کو شہہ دینا۔ کہ کوئی بھی پروفیشنل فوجی افسر اس طرح کی ڈھیل دے کر ادارے کا وقار خطرے میں ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ معاملہ صرف ایک آرمی چیف یا چند افسروں کا نہیں بلکہ پوری فوج اور پوری قوم کا ہے -حیرت  کا مقام ہے  کہ اقتدار جانے کے بعد بھی ریاست کی جانب سے ہر طرح کی سہولیات اور فری ہینڈ دئیے جانے کے باوجود عمران خان کو قرار نہیں آرہا -عدالت سے شہباز گل کا مزید ریمانڈ ملنے پر اسلام آباد پولیس انہیں لینے کے لیے اڈیالہ جیل گئی تو پنجاب پولیس کے مسلح افسر و اہلکار سامنے کھڑے کرکے تصادم کرانے کی کوشش کی۔ دونوں فورسز کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوتی رہی۔وفاقی حکومت نے جیسے رینجرز اور ایف سی کے اہلکاروں کو اسلام آباد پولیس کی مدد کے لیے روانہ ہونے کا حکم دیا تب کہیں ہوش ٹھکانے آئے۔یقینی طور عمران خان شہباز گل کیس کے حوالے سے خود شدید دباؤ میں ہیں مگر جھوٹ بولنے سے باز نہیں آرہے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ شہباز گل کی گرفتاری کے وقت ان کے ڈرائیور پر بھی تشدد کیا گیا حالانکہ اس سے پہلے ہی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آچکی تھی کہ پولیس نے صرف شہباز گل کو پکڑا اور فوراً ساتھ لے گئی۔ڈرائیور کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور گاڑی سمیت جانے دیا۔ڈرائیور جیسے ہی بنی گالہ پہنچا اسکے ہاتھ پر پٹی بندھ گئی، گلے پر زخم کا نشان آگیا اور قمیض بھی پھٹ گئی۔میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے سارا معاملہ سامنے آنے کے باوجود پی ٹی آئی نے ڈرائیور پر تشدد کا ڈرامہ کیا وہ محض ایک مثال ہے کہ غلط بیانی کس سطح پر پہنچی ہوئی  ہے۔ ایک طرف اس طرح کا جھوٹ بولا جارہا ہے تو دوسری جانب کچھ حقائق بھی سامنے آرہے ہیں۔یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پھر سے متحرک ہوچکے ہیں۔لا بیئسٹ فرم سے معاہدے کا فواد چودھری خود بھی اعتراف کرچکے ہیں۔ اب ایک رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے پاکستان میں سابق سٹیشن  چیف عمران خان کے لیے امریکا میں لابنگ کرتے رہے۔ 2001 سی آئی اے سٹیشن چیف رہنے والے رابرٹ لارین گرینئر کیساتھ عمران خان جماعت نے اسی سال،جولائی میں معاہدہ کیا تھااور تحریک انصاف کی جانب سے افتخار درانی نے اس پر دستخط کیے تھے رابرٹ لارین گرینئر کی بطور سی آئی اے سٹیشن چیف تعیناتی کے عرصے میں پاکستانی سرزمین پر بے شمار ڈرون حملے کیے گئے تھے، جن میں بڑاجانی نقصان ہواتھا۔اور جس میں فینٹن آرلاک کمپنی کی خدمات عمران خان نے حال ہی میں حاصل کی ہیں۔۔اس سے پہلے بھی ایک معاہدہ ہوچکا ہے۔اور اس معاہدے پر 22 مارچ 2022 کو اس وقت کے امریکہ  میں سفیر اسد مجید نے دستخط کیے تھے۔دستخط کے ٹھیک پانچ دن بعدعمران خان نے اسلام آباد میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اسی سفیر اسد مجید کاخط لہراکرامریکہ پر سازش کا الزام لگا دیا تھا -دلچسپ بات یہ ہے کہ معاملہ امریکی عدالت کا ہو یا عارف نقوی کیس کا یا فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ ہو، عمران خان کبھی باہر  عدالتوں میں جاکر چیلنج نہیں کرتے انہیں صرف پاکستان کی عدالتوں پر اعتماد ہے۔

مصنف کے بارے میں