راجہ بشارت نے سیاسی مخالفت کے باوجود رواداری کی نئی مثال قائم کر دی

راجہ بشارت نے سیاسی مخالفت کے باوجود رواداری کی نئی مثال قائم کر دی
فوٹو بشکریہ: تردوس ٹائمز ایف بی اکائونٹ

لاہور : وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے سیاسی تاریخ میں رواداری کی نئی مثال قائم کر دی، انہوں نے بدترین سیاسی مخالفت کے باوجود حنیف عباسی کی  بیٹی  ڈاکٹر اریبہ کے حق میں آواز بلند کر کے سیاسی انتقام پر میرٹ کو ترجیح دی۔


نیو نیوز کے پروگرام نیوز ایکسٹرا میں بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار نجم ولی نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے حنیف عباسی کی بیٹی کے حق میں  آواز بلند کر کے یہ ثابت کیا  کہ وہ ایک میرٹ پسند سیاسی رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش  کی جا رہی تھی کہ راجہ بشارت پر سیاسی مداخلت کا الزام لگا کر ان کو فارغ کر دیا جائے  لیکن ہسپتال کے ایم ا یس طارق نیازی نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ  ڈاکٹر اریبہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،  اگر یہ کہا جائے کہ راجہ بشارت کو قانونی طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی تو یہ غلط نہیں ہو گا،  انہوں نے وزیر صحت کو اعتماد میں لیے بغیر ایم ایس کو کیوں کال کی؟ 

 

دوسری طرف  راجہ بشارت  کیخلاف اس کو پری پلان منصوبہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ، وزیر کی کال کو  ایڈٹ  کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا جس میں ایم ایس صاحب صوبائی  وزیر کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کال کو ضابطہ اخلاق کے خلاف ریکارڈ کیا گیا اور اس تمام  مسئلے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی۔ 

سیاسی و سماجی حلقوں میں صوبائی وزیر کے اس اقدام کی تعریف کی گئی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں جو راجہ بشارت نے قائم کی ہے۔