امریکی صدر ٹرمپ کے مواخذے کی 2 قرار دادیں منظور

امریکی صدر ٹرمپ کے مواخذے کی 2 قرار دادیں منظور
کیپشن: قرار داد کے حق میں 230 اور مخالفت میں 197 ووٹ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں 2 قرار دادیں منظور کر لیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے 2 آرٹیکلز کی منظوری دے دی اور معاملہ اب سینیٹ میں جائے گا۔

اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق قرار داد کے حق میں 230 اور مخالفت میں 197 ووٹ آئے جبکہ کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے متعلق قرار داد کے حق میں 229 اور مخالفت میں 198 ووٹ آئے۔

اس سے پہلے ہاؤس جوڈیشری کمیٹی نے ٹرمپ کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام کی منظوری دی تھی اور اب پورے ایوان سے منظوری لی گئی ہے۔

یہ معاملہ اب سینیٹ میں جائے گا اور ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے سینیٹ میں 2 تہائی اکثریت حاصل کرنا ہو گی جو ٹرمپ کی حریف ڈیمو کریٹک پارٹی کو حاصل نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مواخذے کی قرار دادیں منظور ہونے پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مواخذہ میرا نہیں ڈیمو کریٹس کا ہونا چاہیے جو بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے ایوانِ نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شف کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ شف من گھڑت الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے انہیں دھمکی دی ہے، شف ایسے شخص ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہیں ہر چیز میں استثنیٰ حاصل ہے۔

ادھر پاکستانی امریکن ڈیموکریٹس نے امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری کو جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے جبکہ پاکستانی امریکن ری پبلیکنز کے نزدیک ڈیمو کریٹس کا سیاسی سرکس بے کار جائے گا۔