شریف فیملی کیخلاف نیب ریفرنسز، احتساب عدالت نے واجد ضیا کو طلب کر لیا

شریف فیملی کیخلاف نیب ریفرنسز، احتساب عدالت نے واجد ضیا کو طلب کر لیا

اسلام آباد: احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں نیب کی درخواست پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔


 اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیاء کو اصل ریکارڈ کے ساتھ 22 فروری کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

نیب نے درخواست میں استدعا کی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے 2 غیرملکی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لئے اصل ریکارڈ ضروری ہے اس لئے آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو اصل ریکارڈ سمیت طلب کیا جائے۔ جس پر عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے ریفرنسز میں نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

یاد رہے کہ نیب کی جانب سے 22 جنوری کو نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا جس میں استغاثہ کی جانب سے دو غیر ملکی گواہ شامل ہیں۔

غیر ملکی گواہوں میں رابرٹ ریڈلی اور اختر راجہ شامل ہیں جن کے بیانات آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک قلمبند کیے جائیں گے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں