کھیلوں کے فروغ سے جنگ کی نفرتوں کے شعلوں کو بجھایا جا سکتا ہے ،سینیٹر سراج الحق

کھیلوں کے فروغ سے جنگ کی نفرتوں کے شعلوں کو بجھایا جا سکتا ہے ،سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر صحتمندانہ سرگرمیوں بالخصوص کھیلوں کے فروغ سے جنگ کی نفرتوں کے شعلوں کو بجھایا جا سکتا ہے, پوری دنیا ان سرگرمیوں کے ذریعے عالمی امن کو یقینی بنا سکتی ہے, کھیل سب قوموں کا مشترکہ اثاثہ ہیں.


ان خیالات کا اظہار انہوں نےاسلام آباد میں چار ملکی فٹسال (FUTSAL) ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کے اعزاز میں عشائیہ کے موقع پر کیا, عشائیہ میں فٹسال ٹورنامنٹ میں شریک چاروں ممالک ترکی ، برازیل، نیپال ، پاکستان کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے شرکت کی, پاکستان میں ترکی کے سفیر اور برازیل کے نائب سفیر سمیت کھیلوں سے متعلق دیگر غیر ملکی شخصیات بھی موجود تھیں ۔ اس موقع پر چاروں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے تعارف بھی کروایا گیا ۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور کھلاڑیوں کے درمیان کھیلوں کے فروغ کے معاملے پر تقریب سے قبل بات چیت بھی ہوئی۔جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ امورکے ڈائریکٹر عبدالغفارعزیزبھی موجودتھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ پوری انسانیت اور مخلوق اللہ کا کنبہ اور ایک انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہے ۔ حکومتوں اور ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگوں کی بجائے اپنے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مختلف کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کا اہتمام کریں جن سے مختلف ملکوں میں بسنے والے لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جاسکے، صحتمندانہ مثبت سرگرمیوں بالخصوص کھیلوں کے فروغ کو حکومتیں اپنی ترجیحات میں شامل کر لیں تو اس ذریعے سے ہم جنگوں کے امکانات کو ختم کر سکتے ہیں۔ عالمی امن میں پیشرفت کو یقینی بنا سکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اگر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنا دیا جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے, انہوں نے کہا کہ کھیل اور دیگر صحتمندانہ سرگرمیاں انسانیت میں محبت بھائی چارہ رواداری برداشت اور باہمی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے, جنگ کی نفرتوں کی آگ کو صحتمندانہ سرگرمیوں کے ذریعے سرد کیا جا سکتا ہے.

انہوں نے کہا  کہ مثبت سرگرمیوں کے فروغ سے صحت مند ماحول اور مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے جس سے انسانوں کے درمیان اخوت و محبت بڑھتی ہے۔ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے اور باہمی عزت و احترام کے رشتے پروان چڑھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسلام دنیا بھر کے انسانوں کو محبت کی لڑی میں پرو کر ان کے درمیان نفرتوں کی آگ کو بجھانا چاہتاہے ۔ اگر مختلف ممالک کے لوگ ان مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنے درمیان امن کو فروغ دیں تو عالمی امن کے قیام اور جنگ و جدل کے خاتمہ کے لیے نہایت موثر ثابت ہوسکتاہے ۔

چاروں ملکوں کے کھلاڑیوں نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا اس تقریب پزیرائی اور عشائیے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کھیل ساری قوموں کا مثبت اثاثہ ہیں حکومتوں کو اس کو ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے ، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی طرف سے چاروں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو فٹ بال کے تحائف بھی دیے گئے ۔