قومی اور صوبائی اسمبلی کے دو، دو حلقوں میں ضمنی الیکشن، ووٹوں کی گنتی جاری

قومی اور صوبائی اسمبلی کے دو، دو حلقوں میں ضمنی الیکشن، ووٹوں کی گنتی جاری
کیپشن:   قومی اور صوبائی اسمبلی کے دو، دو حلقوں میں ضمنی الیکشن، ووٹوں کی گنتی جاری سورس:   فائل فوٹو

لاہور: قومی اور صوبائی اسمبلی کے 2، 2 حلقوں پر ضمنی الیکشن کیلئے شروع ہونے والی پولنگ کا وقت ختم ہو گیا۔ جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ این اے 75سیالکوٹ، این اے 45کرم ، پی پی 51 گوجرانوالہ اور پی کے 63 نوشہرہ میں پولنگ ہوئی۔

پولنگ اسٹیشن پر عملہ دیر سے پہنچنے کے باعث پولنگ تاخیر کا شکار رہی اور کہیں وبا کے ایس او پیز پر سختی سے عمل نظر آیا تو کہیں اسے نظر انداز کیا گیا جبکہ بزرگ ووٹرز بھی پولنگ اسٹیشن پہنچے۔

این اے 75 سیالکوٹ میں 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے ۔صبح ہوتے ہی پولنگ اسٹیشوں کے باہر ووٹرز کی آمد شروع ہو گئی اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ قطاریں لگ گئیں۔ حلقہ میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 4 ہزار 3 ہے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ ن کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

این اے 45 ضلع کرم کی یہ نشست جے یو آئی کے ایم این اے منیر خان اورکزئی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ قبائلی ضلع میں صبح 8 بجے سے ہی پولنگ کا عمل جاری تھا جو پانچ بجے تک جاری رہا۔ مجموعی طور پر 27 امیدوار میدان میں ہیں اور حلقے میں 134 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

پی کے 63 نوشہرہ میں 102 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ پولنگ اسٹیشن 44 پر پولنگ تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ پریزائیڈنگ افسر کے مطابق عملے کے دیر سے پہنچنے کے باعث تاخیر ہوئی۔

نوشہرہ میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل نظر آیا۔ یہ نشست سابق صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکا خیل کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

حلقہ پی پی 51 کی نشست ن لیگ کے شوکت منظور چیمہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ اس حلقے میں کل ووٹرزکی تعداد 2 لاکھ 53 ہزار 949 ہے جبکہ 162 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ہوئی۔