کون لوگ ہیں ہم ؟

کون لوگ ہیں ہم ؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد ایک دوست سے ملاقات کے بعد واپس لاہور پہنچا، بدقسمتی سے ہفتہ کا دن تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پورا ملک ہی سفر پر نکل کھڑا ہوا ہے۔ ہر بس اور کوسٹر کھچا کھچ بھری نظر آئی۔ یہی صورتحال لاہور اڈے پر دیکھنے کو ملی۔ سارا اڈا یوں بھرا ہوا جیسے بس سروس والوں نے ایک ٹکٹ کے ساتھ ایک ٹک فری کی آفر لگائی ہوئی ہے۔ اڈے سے باہر آیا تو ایک عوامی سواری یعنی’’ آٹو رکشہ‘‘ کی تلاش شروع کر دی۔ اڈے پر سواریاں معمول سے زیادہ تھیں اور رکشے کم، ایک بھائی کو فریاد کی کہ جناح ہسپتال کے پاس چھوڑ دے، لیکن اس نے مجھے چار سو روپے ریٹ سنا کر ثابت کیا کہ وہ میرا سگا تو نہیں سوتیلا بھائی ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ عام حالات میں اڈے سے جناح ہسپتال تک آپکو رکشہ والا ڈیڑھ سو روپے میں لے جائے گا اور سارا راستہ نصیبو لعل کا ایسا سنگیت بھی سنائے گا کہ آپکا ایمان تازہ ہو جائے۔ لیکن ایسے ہی ریٹ باقی بھائیوں سے بھی سننے کو ملے جو کہ سواریوں کی مجبوری کا صحیح فائدہ اٹھاتے دکھائی دیئے۔ میں نے سوچا چلو،، کوئی بات نہیں، رکشہ نہیں تو گیارہ نمبر ہی صحیح۔ لہذا پیدل ہی گھر کی جانب مارچ شروع کر دی۔


چلتے چلتے خیال آیا کہ ہم کون لوگ ہیں۔ ہم آخر کیوں ایسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ میں نے آج تک کبھی نواز شریف کو دودھ میں پانی ملا کر بیچتے نہیں دیکھا، یہ کام آپکا اور میرا گوالا ہی کرتا ہے اور بلاجھجھک کرتا ہے۔ میں نے آج تک زرداری کو لال مرچوں میں اینٹوں کا مصالحہ پیس کر ملاوٹ کرتے نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی مجھے چوہدری برادران سرکاری ہسپتالوں میں استعمال شدہ انجیکشن سپلائی کرتے نظر آئے۔ دوکانوں پر پلاسٹیک ملے دو نمبر انڈے بھی کبھی شیخ رشید نے نہیں بیچے۔ نہ ہی میں نے کبھی سراج الحق صاحب کے کسی دو نمبر نسوار بنانے والے کارخانے کے بارے میں سنا ہے۔ شہباز شریف صاحب کو بھی میں نے کبھی مرے ہوئے جانوروں کی چربی سے گھی نکالتے نہیں دیکھا۔ نہ ہی طاہر القادری مجھے کبھی بسوں میں ایسی دو نمبر پھکی بیچتے نظر آئے جن میں بواسیر سے لیکر معدہ کی تمام بیماریوں کا اعلاج ہو۔ خان صاحب جو کہ ایک عرصہ دراز سے تبدیلی کا راگ الاپ رہے تھے نجانے کب ان کے بھی سر ڈھیلے ہو گئے، لیکن انہیں بھی میں نے کبھی کسی ایسی مسجد کے نام پر چندہ مانگتے نہیں دیکھا جو بیس سال تک لاکھوں روپے چندہ جمع ہونے کے باوجود بھی زیر تعمیر ہو۔

یہ سب کام آپکے اور میرے ایسے ہی سوتیلے بھائی کرتے دکھائی دیں گے جیسا رکشے والا بھائی مجھے ملا تھا۔ سڑک پر ٹریفک قوانین کی کی دھجیاں عام شہریوں کی گاڑیاں زیادہ اڑاتی ہیں اور اگر کوئی ٹریفک وارڈن روک لے تو کسی تھانیدار چاچے مامے کو فون بھی ہم عام شہری ہی کرتے ہیں۔ سرکاری نوکری کے حصول کے لیئے کسی پولیٹیکل ٹائوٹ کو ہم ہی ڈھونڈتے جو کوئی دو چار لاکھ لیکر گریڈ چار پانچ کی ’’سیٹ‘‘ دلوا دے۔

ہم نے اور کیا نہیں کیا؟ کھابوں کے شوقین لاہوریوں کو’’کھوتے‘‘ تک تو لھلا دیئے۔ ہمارے ڈاکٹرز نے بھی گردے بیچنے کی دوکانیوں کھول لیں۔ قصہ مختصر یہ کہ جناب! جتنا جس کا بس چلتا ہے اتنا تو وہ بدمعاش ہے۔ تو کیا ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ہم بحیثیت قوم کیا کر رہے ہیں ؟ ہمیں تربیت کی کتنی اشد ضرورت اور شاید اس وقت تک مجھ سمیت بہت سے پاکستان میں ذہنوں میں یہی سوالات اٹھتے رہیں گے ’’کون لوگ ہیں ہم ‘‘

طلحہ سعید قریشی< Reporter

نیو نیوز لاہور میں آئی ایس پی آر، نیشنل سیکیورٹی اور کاونٹر ٹیریرزم اینڈ انسرجُسی کور کرتے ہیں اور ابھرتے ہوئے بلاگر ہیں ۔