پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس افغانستان بھیجنا چاہتا ہے : اعزاز چوہدری

پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس افغانستان بھیجنا چاہتا ہے : اعزاز چوہدری

واشنگٹن :امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس بھیجنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان جا کر مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہوں۔


اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں ہیں اور اگر امریکہ کو شک ہے اور ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ ہمیں بتائیں کیونکہ ہم بھی انھیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔’ہماری پوزیشن تو یہ ہے کہ ہم ان کو اپنے ملک سے بھیجنا چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ طالبان اور حقانی ہمارے پاس رہیں، ہم تو ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جائیں افغانستان میں جا کر رہیں اور اب وہ آپ کا ملک ہے اور وہاں کی مرکزی سیاسی دھارے میں جا کر شامل ہوں اور یہاں پر آپ کا رہنا قبول نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم بالکل نہیں چاہتے کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان ہمارے ملک میں رہیں اور ہم ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ہماری اطلاعات کے مطابق ان کے پاس وہاں 43 فیصد علاقہ موجود ہے تو ان کو پاکستان میں رہنے کی کیوں ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین میں ان کی رشتہ داریاں ہیں اور اسی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی واپس افغانستان جائیں۔‘اعزاز چوہدری نے افغان مہاجرین کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اب (مہاجرین) سکیورٹی کے لیے خطرہ اختیار کرتے جا رہے ہیں جس میں نوجوانوں کو وہاں سے بھرتی کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی واپس جائیں اور اس کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنایا جائے تاکہ برے لوگ نہ ِادھر سے اْدھر جائیں اور نہ ہی اْدھر سے ادھر آئیں۔