ساہیوال واقعہ, ہلاک ہونے والے افراد کون تھے ؟

ساہیوال واقعہ, ہلاک ہونے والے افراد کون تھے ؟
Image Source : Neotv Screenshot

لاہور :ساہیوال میں آنے والے درد ناک واقعہ نے اعلیٰ حکام میں تھر تھلی مچا دی ،پولیس مقابلے میں 4افراد کی ہلاکت نے نئے سوالا ت کو جنم دیدیا ،واقعہ کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا ۔


ساہیوال میں مشکوک پولیس مقابلے میں ہلا ک ہو نے والے چار افراد کا معمہ حل نہ ہو سکا ،اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں خاتون اور بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ،خاندان کے یہ افراد لاہور سے بورے والا شادی پر جا رہے تھے ،عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے چاروں افراد جاںبحق ہو گئے ،بچ جانے والے بچوں کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔

دوسری طرف سی ٹی ڈی کے مطابق کاروائی ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب کی گئی ، دوپہر 12 بجے کاراور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی گئی، اہلکاروں کی فائرنگ سے چار مبینہ دہشتگرد ہلاک جبکہ شاہد جبار، عبد الرحمان اور ان کا ایک ساتھی فرار ہو گئے۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے دعووں کے مطابق مبینہ دہشتگردوں کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق آپریشن میں مارا گیا ایک دہشتگرد ذیشان ہے، یہی دہشتگرد یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغواء میں بھی ملوث تھے، مارے گئے افراد پنجاب میں داعش کے سب سے خطرناک دہشتگردوں میں شامل تھے اور یہی دہشتگرد امریکی شہری وارن وائن اسٹائن کےاغوا میں بھی ملوث تھے۔ گاڑی کے ڈرائیور کا شناختی کارڈ سی ٹی ڈی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کارروائی فیصل آباد میں 16 جنوری کوہوئےآپریشن کا حصہ تھی، ریڈ بک میں شامل 2 دہشتگردوں کی تلاش تھی۔

دوسری جانب عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے ہلاک ہونے والے افراد کے ساتھ کار میں سوار بچے نے کہا کہ پولیس نے ہمارے ممی پاپا ماردیے۔ عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ گاڑی میں موجود افراد کے پاس اسلحہ موجود نہیں تھااور نہ ہی ان میں سے کسی نے مزاحمت کی۔ گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچے ہسپتال میں زیر علاج زخمی بچے کا کہنا ہے چچا کی شادی پر لاہور سے بورے والا جا رہے تھے، پاپا کا نام خلیل تھا۔ مقابلے میں مارے گئے خلیل کے بھائی نے کہا ہے کہ ون فائیو پر کال کی تو پولیس نے کہا واقعہ کا علم نہیں، خلیل کی چونگی امرسدھو میں پرچون کی دکان ہے، ہم 3 گاڑیوں پر لاہور جا رہے تھے، ہماری ایک گاڑی بورے والا پہنچ گئی تھی، بھائی کو کال کی تو وہ اوکاڑہ بائی پاس کے قریب پہنچ گیا تھا، میری گاڑی پیچھے تھی، ساہیوال پہنچ کر کال کی تو موبائل فون بند تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ یہ افسوس ناک واقعہ ہے جس کے کئی پہلوں ہے ،جن میں سے ایک یہ کہ اس گاڑی میں دہشتگرد سوار تھے اور انہوں نے خواتین کو ڈھال بنا رکھا تھا،دوسرا پہلوں یہ ہے کہ اس میں عام افراد سوار تھے، اس واقعے کا جو بھی رخ حقیقت پر مبنی ہوگا اس جلد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔