آج مہنگائی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ

آج مہنگائی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ

موجودہ حکومت کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس نے عوامی مقبولیت حاصل کرنے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جن جن اقدامات اور اصلاحات کی مخالفت کی تھی ان ہی تمام کاموں کو اپنے دورِ اقتدار میں ڈنگے کی چوٹ پر کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے اور اس کے لئے طرح طرح جواز بھی گھڑے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کو خود کشی کے برابر قرار دیا گیا اور اب اس سے اورا س جیسے دوسرے اداروں سے قرضہ لینے کے لئے نا صرف جتن کئے جا رہے ہیں بلکہ اس قرضے کے حق میں دلائل بھی دیئے جا رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کو کرپٹ کہا گیا اور اعلان کیا گیا کہ ہم اقتدار میں آ کر تیل کی قیمت 60 روپے فی لیٹر تک لے آئیں گے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ تیل کی قیمت 119 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے اور یہ وہ تیل کا فی لٹر نرخ ہے جس پر آج سے پہلے پاکستان میں کبھی تیل فروخت نہیں ہوا۔ رواں مالی سال کا بجٹ پیش ہونے کے بعد اب تک مسلسل تین مرتبہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 16جون سے اب تک کے ایک ماہ کے عرصہ میں پٹرول کی قیمت میں 9.53 روپے، ڈیزل 5.77، مٹی کا تیل 7.14 اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7.14 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ اپوزیشن کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے اصل صورتحال کا ادراک نہیں ہے یا پھر اس معاملے میں عوام کی مشکلات کا احساس نہیں ہے اور اسے صرف اور صرف اپنے ٹیکسوں سے غرض ہے جو پیٹرولیم کی مختلف مصنوعات سے اکٹھے کئے جاتے ہیں۔   

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی تین اہم اشیاء گھی، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ چینی میں 17 روپے فی کلو، گھی کی قیمت میں 90 روپے فی لیٹر اور آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 150 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت نرخوں پر سختی سے عمل کرائے گی۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے الٹی گنگا بہتی آئی ہے اور جس چیز کے حوالے سے حکومت نرخنامے جاری کرتی ہے اس کے دام اتنے 

بڑھ جاتے ہیں کہ عام آدمی انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور دوکاندار کبھی بھی ان نرخناموں پر عمل نہیں کرتے انتظامیہ ناصرف بے بس ہوتی بلکہ اس کے اہلکار دوکانداروں سے نذرانے وصول کر کے چلتے بنتے ہیں۔ دوکاندار اپنی من مانیاں جاری رکھے رہتے ہیں جب کہ عام آدمی ان کی تلخ ترش باتیں اور جھڑکیاں سہہ کر چپ سادھ لیتا ہے۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو وہ دن دور نہیں جب عام آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کی سکت بھی کھو دے گا۔ یوٹیلٹی سٹور کم آمدنی والے طبقے کے لئے ایک بڑی سہولت ہے جہاں قیمتوں میں رعایت سے عوام فائدہ اٹھا رہے تھے مگر ادارہ جاتی بد انتظامی اور حکومتی فیصلوں نے ان کی افادیت کو ختم کر دیا ہے۔ حکومت کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میںا ضافہ نہ کرنے کا عندیہ دیتی آئی ہے مگر عملی صورت یہ ہے کہ رواں مالی سال کا آغاز ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ وہ اشیائے ضروریہ ہیں جن کے بغیر عام سے عام آدمی کا بھی گزارہ نہیں ہے۔ ادھر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے بھی بجلی 3 روپے34 پیسے مہنگی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ لائف لائن صارفین کو سبسڈی 300 کے بجائے 200 یونٹ تک دی جائے۔ حکومت نے اس پر عمل کرنے کا عندیہ ظاہر کر دیا اس طرح اب جو صارفین 200 سے 300 بجلی کے یونٹ خرچ کریں گے ان کے لئے بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ اس حوالے سے سبسڈی 140 ارب سے کم کر کے 56 ارب روپے تک لائے جانے کا امکان ہے۔ ان حکومتی اقدام کے نتیجے میں نا صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ رہے گا۔ عوام شدید مسائل کا شکار ہیں لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ کچھ نہیں ہوا، اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسے اس کے اثرات کا علم نہیں اگر علم ہے تو پھر عوام کے ساتھ ہمدردی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت مہنگائی کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے وعدوں کے ساتھ برسرِ اقتدار آئی ہے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے یعنی عوام کی آمدنیوں اور قوتِ خرید کا احساس کئے بغیر ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ مہنگائی کئی گنا بڑھتی جا رہی ہے اور اسی شرح سے غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستانی معیشت ہر آنے والے دن کے ساتھ جس طرح پستیوں اور گہرائیوں میں ڈوبتی جا رہی ہے اس کا سوچ کر ہر محبِ وطن پاکستانی خوف اور فکر میں گھرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ حکومتوں پر لعن طعن کرنے والی حکومت نے اربوں اربوں روپے بینکوں سے قرضے لے لئے ہوں، ڈالر 150 سے بھی تجاوز کر گیا ہو تو کیسے معیشت کی بہتری، غربت میں کمی، آمدنیوں اور روزگار میں اضافے، معاشی خوشحالی اور آسودگی کی امید بندھی جا سکتی ہے۔ جس رفتار سے پاکستان معاشی ترقی کر رہا ہے اس سے مہنگائی کا گراف اور اوپر جائے گا، بڑے پیمانے پر صنعت میں ترقی کی شرح کم ہو جائے گی، زراعت و صنعت دونوں سست روی کا شکار رہیں گے، ٹیکسوں کی وصولی کم اور اخراجات میں اضافہ ہو گا۔  موجودہ حکومت سے بھی عوام نے یہ توقعات وابستہ کی تھیں کہ ماضی میں جو زیادتیاں کی جاتی رہیں اور مہنگائی کے منہ زور گھوڑے کو جس طرح بے لگام چھوڑ دیا گیا اس کا ازالہ کیا جائے گالیکن لوگوں کے خوابوں کو الٹی تعبیر ملی ہے اور مہنگائی پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بڑھنے لگی ہے جس کی بنیادی وجہ پٹرولیم، گیس، بجلی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں سال میں کئی کئی بار بڑھائی جا رہی ہیں۔ اکثر و بیشتر اس کے لئے آئی ایم ایف کے قرضوں کی شرائط کا حوالہ دیا جاتا ہے، وہی قرضے جن کے حصول کی بات چیت کرتے ہوئے عوام کو بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ اپنی شرائط پر قرضے حاصل کئے جا رہے ہیں جو ظاہر ہے غلط بات تھی۔ حکومت بس صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا کر اپنا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف پورا کر رہی ہے لیکن اس کا اس بات کی جانب ذرہ برار دھیان نہیں ہے کہ ان اقدامات کے عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزراء عوام کو کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے درس دے رہے ہیں۔ انہیں عوام کی حالتِ زار نہیں معلوم کہ آج مہنگائی نے غریبوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ حکومت نے مہنگائی روکنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے تو آئندہ شائد اسے عوام کی جانب سے پذیرائی ملنا مشکل ہو جائے۔ ان ساری پریشانیوں اور مسائل کو مد، نظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ وہ حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے بلکہ ممکن ہو تو اس حوالے سے سبسڈی فراہم کرے تا کہ عام استعمال کی یہ اشیاء عوام کی قوتِ خرید کے اندر رہیں اور اس کی وجہ سے عوامی سطح پر مسائل کے بڑھنے کا جو خدشہ بڑھ رہا ہے وہ ختم ہو جائے۔