مجھے حکومت پر اعتبار نہیں!!

مجھے حکومت پر اعتبار نہیں!!

 گھریلو ،کمرشل اور انڈسڑیل بجلی کے صارفین کو مکمل اور بلا تعطل سپلائی میں بری طرح ناکامی کے بعداب حکومت سولر سسٹم پر شفٹ کے مشورے بھی دے رہی ہے اور اس کے بے شمار فوائد بھی بیان کر رہی ہے۔اگرچہ حکومت کا مشورہ ماننا کوئی آسان اور سستا کام نہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی شہری اس تجویز پر غور کرنا چاہے تو اس کی راہ میں حکومت پر بے اعتمادی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر سترہ فیصد ڈیوٹی کم کر نا ایک احسن قدم ہے اور یہ توانائی کے متبادل ذرائع کے حصول میں کافی مددگار بھی ثابت ہوگا  لیکن اس سسٹم کی پرموشن پر عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اور تحفظات کا جواب آنا بھی ضروری ہے۔  

اگربات کی جائے شمسی توانائی سے بننے والی بجلی او ر اس کے نتیجہ میں ممکنہ طور پر عوام کو ملنے والے ریلیف کی تو اس سے پہلے حکومت کو ہمیں بتانا چاہیے کہ چند سال پہلے  نواز لیگ کی حکومت کے پچھلے دور میں حکومت دعوے کرتی تھی کہ انہوں نے ، ہائیڈل، تھرمل، سولر، ونڈ اور کول سے بننے والی بجلی کے اتنے کارخانے لگا دیے ہیں کہ وہ ملکی ضروریات سے بھی زیادہ ہیں۔ بعد ازاں بننے والی پی ٹی آئی کی حکومت کہتی رہی کہ سابقہ حکومت نے مہنگی بجلی بنانے کے بے شمار منصوبے لگا دیے ہیں لیکن ڈسٹربیوشن سسٹم کمزور  ہونے کی وجہ سے ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں لیکن ہم بجلی بنانے والی کمپنیوں کو پیسے ادا کرنے کے پابند ہیں۔یعنی دونوں پارٹیوں کی باتوں سے ایک بات تو ثابت ہوتی تھی کہ ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہ تھی۔ تو پھر بجلی اچانک غائب کہاں ہو گئی؟ اس دوران میں (یہاں ’ میں‘ سے مراد عام عوام لی جائے اور’ حکومت‘ سے مراد نواز شریف، آصف زرداری ،عمران خان یا کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں بلکہ تمام حکومتیں لی جائے) باقاعدگی سے بل بھی ادا کرتا رہا اور وقتاً فوقتاً بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ بھی برداشت کرتا رہا۔یعنی اس سلسلہ میں ہونے والی کسی بھی گڑ بڑ کا ذمہ دار مجھے نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔  

اگر فی الحال بجلی کی قیمتوں میں غیر معمولی اور ناجائز حد تک اضافہ کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو بھی بطور ایک صارف میرا یہ پوچھنے کا حق تو ہے کہ اگر مجھ سے اپنی شرائط پر بل وصول کرتے ہو تو مجھے بجلی پوری کیوں نہیں دیتے؟میں کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا شکار کیوں ہوں؟ اگر مجھے یہ دلیل دی جائے گی کی لائن لاسز بہت زیادہ ہیں تو میں سوال کروں گا کہ کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں؟ واپڈا جیسا بے لحاظ ادارہ صرف ایک ماہ بل لیٹ ہونے پر میری بجلی تو کاٹنے تو آ جاتا ہے لیکن لائن لاسز کے ذمہ داروں کے خلاف بے بس کیوں ہے؟گڈ کورنس کے دعویدار اور غریب پروری کا دم بھرنے والی حکومتوں کومیر ی تکلیف کا تو احساس تو بالکل نہیں لیکن وہ بجلی چوروں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قسم کا تحفظ ضرور فراہم کرتی ہیں۔ 

اگر بجلی کو کمیاب کرنے اور اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر کے حکومت اب مجھے سولر سسٹم لگانے کا مشورہ دے رہی ہے تو میں اس امر کو شک و شبہ سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ میں ان کی چکر بازیوں پر شک اس لیے بھی زیادہ کرتا ہوں کیونکہ ابھی کچھ عرصہ قبل ہم نے دیکھا کہ کس طرح انہوں نے بجلی کی قلت پیدا کر کے جنریٹروں اور یوپی ایس کے امپورٹرز سے کمیشنیں کھائیں۔حکومت کی چکر بازی کی ایک دو مثالوں پر غور کر لیا جائے تو کم از کم میں تو ان پر اعتبار کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں۔ پہلی مثال مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں ہے جو جیسے تیسے کر کے کوئی موٹر کار تو خرید لیتے ہیں لیکن اس میں جلنے والا ایندھن ہمیشہ ان کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ ابھی بہت پرانی بات نہیں جب ملک میں ڈیزل کی قیمت پیٹرول سے نصف سے بھی کم تھی۔اس وقت گاڑیوں کو پیٹرول سے ڈیزل میں کنورٹ کرنے کا ٹرینڈ چلا۔ بڑی تعداد میں سیکنڈ ہینڈ ڈیزل انجن درآمد کیے گئے اور ملک میں چلنے والی زیادہ تر گاڑیاں ڈیزل پر منتقل ہو گئیں۔ پھر ڈیزل کی قیمت رفتہ  رفتہ بڑھنا شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے یہ پیٹرول سے بھی مہنگا ہو گیا۔ اس ایکسرسائز کے نتیجہ میں سستے ایندھن پر گاڑی چلانے کے چکر میں میرے لاکھوں روپے ڈوب گئے۔

اس کے بعد سفاک حکومت کو میری جیب سے پیسے نکلوانے اور اپنے خزانے بھرنے کا ایک اور آئیڈیا ذہن میں آیا۔ حکومت کی سرپرستی میں ایک مہم چلائی گئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ سی این جی ایک سستا اور ماحول دوست ایندھن ہے لہٰذا مجھے اپنی گاڑی اب سی این جی پر چلانی چاہیے۔ اس نئی تجویز پر عمل درآمد کرنے کے لیے مجھے کم از کم ایک سی این جی کٹ کی خریداری درکار تھی۔ یہ بات تو تھی درمیانے درجے یا اس نیچے کے عوام کی جیب کترنے کی۔ مالی طور پر مستحکم پارٹیوں کو سی این جی سٹیشن لگانے کے نام پر لوٹا گیا اور ڈھیرم ڈھیرلوگوں کو فلنگ سٹیشن لگانے کے لائسنس جاری کیے گئے۔  اس معاملہ میں کمیشنیں او ر رشوتیں سمیٹنے کے بعدایک دن اعلان ہوا کہ ملک میں گیس تو نایاب ہے اور گاڑیوں کے لیے گیس کی فراہمی تقریبا ً ناممکن ہے۔ اس طرح لوگوں کی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری مٹی ہو گئی۔ 

آج مجھے سولر سسٹم لگانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور مجھے اس کے فوائد کی لمبی فہرست گنوائی جا رہی ہے۔اس سسٹم کا ابتدائی طور پر یہ فائدہ بتایا گیا  تھاکہ اگریہ سسٹم میرے استعمال سے زائد بجلی پیدا کرے گا تو واپڈا کا نیٹ میٹرنگ سسٹم وہ اضافی بجلی مجھ سے خرید لے گا ۔ کچھ عرصہ بعد اعلان ہوا کہ واپڈا اضافی بجلی خرید نہیں کرے گا بلکہ اضافی یونٹ میرے اکائونٹ میں جمع کر دے گا جو بعد ازاں میں کسی بھی وقت استعمال کر سکتا ہوں۔ اطلاعات کے مطابق اب ایک اور نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جس کے مطابق میں اپنے جمع شدہ یونٹ صرف تین ماہ کے اندر استعمال کر سکتا ہوں ،  اگر میںایسا کرنے میں ناکام رہتا ہوںتو میرا کریڈٹ صفر ہو جائے گا۔ یعنی جس رفتار سے حکومت اور واپڈا اس سولر سسٹم کے فوائد میں کمی لاتے جا رہے ہیں مجھے شک ہے کہ جلد ہی اس سسٹم کو لگوانا کوئی فائدہ مند انوسٹمنٹ نہیں ہو گی۔ میرا حکومت سے سوال ہے کہ اگر میں آج ان کی باتوں میں آ کر سولر سسٹم لگوا لیتا ہوں تو کیا گارنٹی ہے کہ کل کو ٹیکسوں یا کسی اور چکر بازی میں پھنسا کر میری حق حلال کی کمائی کو مٹی نہیں کر دیا جائے گا۔سولر سسٹم کی ناکامی میں واپڈا کی دلچسپی یہ ہے کہ اگر میرا بل کم آ رہا ہو گا یا نہیں آ رہا ہو گا تو واپڈا چوری شدہ یونٹس کس طرح میرے بل میں شامل کرے گا؟ لہٰذا ہمیں حکومت سے کسی بھی قسم کی ہمدردی اور واپڈا سے کسی بھی قسم کے لحاظ کی توقع تو رکھنی ہی نہیں چاہیے اور اپنے نفع نقصان کو اندازہ لگا کر کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔