گھڑی

گھڑی

اپنے آقا کریمﷺ کی دعا کہ اے اللہ! پناہ عطا کر ہر بُری گھڑی سے، ہر بُرے وقت سے، ہر بُرے دن سے، نعمتوں کے چھن جانے سے، عافیتوں کے مُڑ جانے سے (مفہوم)۔ گھڑی بعض اوقات پوری زندگی پر حاوی ہوا کرتی ہے زندگی کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی سخت گھڑی، لمحہ انسان پر وارد ہو جائے، تھوک سانس کی نالی میں چلی جائے تو گھڑی کی ایک چوتھائی ہی انسان کو قدر کرا دیتی ہے۔ ہندوستان اور پوری دنیا میں ہزاروں سال بادشاہتیں اور حکومتیں ستارہ پرستی، جوتش اور علم نجوم کے ذریعے چلتی رہیں۔ آج بھی بھارت میں شُبھ گھڑی اور نحس گھڑی دیکھ کر شادی بیاہ سنجوک کے لیے اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مسلمانوں میں بعض گھرانے باقاعدہ جنتری دیکھ کر شبھ اور نحس گھڑی کا یقین ، بچی بچے کی شادی کے دن تاریخوں کا تعین کرتے ہیں۔ اتنی لمبی تمہید صرف اس لیے کہ انسان کی زندگی جو لوگ کبھی کبھار محاورتاً بولتے ہیں فلاں پہاڑ جتنی زندگی کیسے گزارے گا یا گزارے گی۔ حالانکہ پہاڑ جتنی زندگی پر حقیقت میں ایک گھڑی ہی بھاری ہوا کرتی ہے لمحے اور گھڑی میں فرق بیان کروں گا تو ایک پورا کالم مزید لکھنا پڑ جائے گا۔ ایک گھڑی ہی تھی جب آسٹریا کے شہزادے کو گولی مار دی گئی اور دنیا میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جو 28 جولائی 1914 سے 11 نومبر 1918 تک جاری رہی جس میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے۔ پوری دنیا بُری طرح متاثر ہوئی اور اس کے نتائج پھر دنیا کو 27 جولائی 1914 کا دن نہ دکھا سکے، بُرے دن ہی آگے نا گہانی عذاب اور ہر قسم کے غلبے، یہ ایک گھڑی تھی جو ایک انسان کی موت سے شروع ہوئی۔ دنیا نے مسائل حل کرنے کے لیے لیگ آف نیشن بنائی 1920 میں بننے والی لیگ 1946 تک چلتی رہی پھر نئی گھڑیاں، لمحے اور ناگہانی واقعات جنگ عظیم دوئم کا سبب بنے۔ لیگ آف نیشن مقاصد کے اعتبار سے تو بہتری آئی مگر ایٹم بم چل گئے لاکھوں لوگ بھوک، افلاس، بیماریوں اور تباہی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ گویا انسان تو انسان قوموں کی تقدیر پر بھی ایک گھڑی ہی بعض اوقات حاوی ہوا کرتی ہے۔ میں آج اپنے قارئین کو اپنے آقاؐ کی دعا کا تحفہ اور زندگی میں ایک گھڑی کی اہمیت بتانے کے لیے اپنے خیالات سپرد قرطاس کرنے لگا ہوں۔ ہم وقت کی قدر نہیں کرتے، دنیا کی ترقی یافتہ قومیں وقت کو ہی اہمیت دیتی ہیں اور آج وقت ان کو اہم کر گیا۔ ملک سے ہوں یا خاندان سے احباب سے ہوں یا سماج کے رشتے مان کے ہوتے ہیں ٹوٹ جائیں تو رشتہ صرف ناجائز قبضہ رہ جاتا ہے۔ آج ریاست اور فرد کا رشتہ بھی ٹوٹ چکا ہے محض فرد پہ ریاست کا ناجائز قبضہ باقی ہے بات گھڑی کی ہو رہی تھی، اس کی اہمیت کی چل رہی تھی۔ بے شک انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے اس کا مقدر آ چکا ہوتا ہے۔ اب اس کے آنے کی گھڑی پہ تو 

اس کا اختیار نہیں اسی لیے تو حضرت عیسیٰؑ قرآن عظیم میں ہے ’’اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔‘‘ گویا گھڑی نہ جانے کب آ جائے جو فرد، انسان اور قوموں کی زندگی اور معاشرت کا دھارا بدل کر رکھ دیتی ہے۔

آپ انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں اگر چند گھڑیاں ایسی نہ گزرتیں تو دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ تاریخ و تحریک اسلام میں بھی ایسی گھڑیوں اور ان گھڑیوں میں جنم لینے والے سانحات سے بھری پڑی ہے بعض لوگوں کا بچ جانا زندگی پا جانا قوم اور امت کو تقسیم کر گیا اور بعض سانحات قیامت تک کے لیے لکیر کھینچ گئے۔ وطن عزیز بنا تو 27 ویں رمضان المبارک کو تھا ضروری نہیں کہ وہ شب قدر ہو محض طاق رات بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس پر جب بھی فیصلے کی گھڑی آئی اس ملک کو پناہ نہیں ملی جو قوم کو بھگتنا پڑی۔ ایوب خان کے مارشل لا مافذ کرنے کی گھڑی ہو یا جسٹس منیر کی عدالت کا فیصلہ جناب بھٹو کا ضیا الحق کو آرمی چیف بنانے کی گھڑی ہو یا مولوی مشتاق کی عدالت کے فیصلے کی گھڑی جناب بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر شہید کی شہادت کی گھڑی ہو یہ سب اچانک نہیں ہوا وہ لمحہ اور گھڑی منحوس تھے جب یہ فیصلے کر لیے گئے آگے چل کر ملکی سیاست میں نوازشریف کا آنے اور پھر آگے چل کر بدلتا ہوا رجحان اور اس رجحان پر ان کے متعلق فیصلے کی گھڑی ۔ کچھ نہ ملا تو وہ گھڑی جب عمران خان کو سلیکٹ کر لیا گیا قوم کو پناہ نہ مل سکی۔ آج حالت یہ ہے کہ قوم کا وہ ووٹ کو عزت دو تو بڑی دور کی بات ہے میرا ووٹ کی پرچی سے اعتماد اس وقت سے اٹھ گیا تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو مقبولیت کے باوجود مرکز میں 18 سیٹوں کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھنا پڑا۔ ان کی اکثریت یوں نہ بدلی جا سکی تو زندگی کو موت میں بدل دیا گیا محض اس لیے کہ دنیا میں اس وقت ان کی آواز سنی جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا۔ نوازشریف آج چلتے لمحے کے مقبول ترین رہنما ہیں لیکن فیصلے کی گھڑی ابھی ان کے حق میں نہیں۔ فواد چودھری کا بیان تھا کہ چند لوگوں کو قوم کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اب حالیہ انتخابات میں فیصلے کو ہی نتائج بنا دیا گیا، اب فواد چودھری کیا کہیں گے؟ مریم حمزہ اور ن لیگ کی قیادیت شکست تسلیم کر گئی دراصل یرغمال لوگ کر بھی کیا سکتے تھے یہ تو حقیقی شکست کو بھی قبول نہیں کرتے تھے اور آج حالیہ انتخابات جن میں میرا تجزیہ تھا کہ ن لیگ 14 سیٹوں پر کامیاب ہو گی مگر فیصلے جب نتائج بنیں تو تجزیے پلٹ جایا کرتے ہیں۔ اب اس مکتبہ فکر سے متفق ہونا پڑتا ہے جو کہتے ہیں کہ دفع کرو جمہوریت کی نوٹنکی کو سیدھا مارشل لا ہی نافذ کر دیا جائے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی چند ٹوئٹ پڑے کہ ’’گل مُک گئی اے‘‘۔ گوہر بٹ نے پوچھا ’’کونسی گل مک گئی اے؟‘‘۔ جواب آیا کہ ن لیگ کا صفایا۔ لندن میں بیٹھے امداد حسین شہزاد نے ایک دن پہلے یہی خبر سنائی جب کہ زمینی حقائق کچھ اور تھے۔ کسی نے کتاب لکھی تھی ’’حکمرانوں کی مجبوریاں‘‘، شاید اب کوئی یہ بھی لکھے گا ’’اپوزیشن کی مجبوریاں‘‘۔

ماڑے دا کیہ زور محمد

نس جانا یا رونا

یہی فیصلہ ہے یہی تقدیر ہے یہی دستور ہے یہی وطن عزیز میں بسنے والوں کا زور ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے جیتنے والوں کی حیرت اور ہارنے والوں کی سستے میں جان چھوٹ جانے کا اطمینان دیدنی ہے۔ 15 سیٹیں، پنجاب کی لولی لنگڑی حکومت دے کر اگر ملک میں وفاق افراتفری، خانہ جنگی، طوفان بدتمیزی کنٹرول کرنے کی کوشش دیکھیں کامیاب ہو کہ نہ ہو آئندہ کیا سیٹ اپ آتا ہے چند لوگوں کو ہی پتہ ہو گا۔ پنجاب اب شریفوں یا جنونیوں کو پیپلز پارٹی کی طرح کبھی نہیں ملے گا۔

ہمیں دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ بُری گھڑی سے پناہ عطا فرما، خاص طور پر ان گھڑیوں سے جن سے قوم کی تقدیر جڑی ہوتی ہے۔ کیا خوبصورت بندوبست ہے وفاق میں ن لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں اتحادی اور پنجاب میں پی ٹی آئی ق لیگ اور اتحادی مگر قوت و اقتدار جہاں ہے وہیں رہے گا۔ بعض ادارے قوم کو گجنی (بھارتی فلم) قوم سمجھتے ہیں۔ اللہ کریم ہمیں پناہ عطا فرما، ہر بُری گھڑی سے۔