بیجنگ :رواں سال مارچ کے بعد سے کم جونگ ان کا چین کا یہ تیسرا دورہ ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کا اظہار ہوتا ہے ، شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں جہاں وہ چین کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

کم یہ دورہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی تاریخی ملاقات کے ایک ہفتے بعد کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اس دورے میں چینی قیادت کو امریکی صدر کے ساتھ ہونے والے اتفاقِ رائے پر اعتماد میں لیں گے۔

چین کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی کہ کم جونگ ان منگل کی صبح بیجنگ پہنچے ہیں جہاں وہ بدھ تک قیام کریں گے ، بیجنگ میں واقع دیایوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی درجنوں گاڑیاں اور سیکڑوں اہلکار تعینات ہیں۔

یہ وہی گیسٹ ہاؤس ہے جہاں کم جونگ ان نے دو ماہ قبل ہونے والے اپنے گزشتہ دورے کے دوران قیام کیا تھا ، رواں سال مارچ کے بعد سے کم جونگ ان کا چین کا یہ تیسرا دورہ ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کا اظہار ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم جونگ ان منگل کی دوپہر 'گریٹ ہال' جائیں گے جہاں ان کی صدر ژی جن پنگ سے ملاقات ہوگی ، جاپان کے ایک روزنامے نے خبر دی ہے کہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ ان شمالی کوریا پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے لیے بھی چین کی قیادت سے مدد مانگیں گے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کی تاریخی ملاقات اور اس میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کے بعد چین نے عندیہ دیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شمالی کوریا پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرسکتی ہے۔

گو کہ چین کی قیادت سنگاپور میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں شریک نہیں تھی لیکن شمالی کوریا کے قریب ترین بین الاقوامی اتحادی ہونے کے ناتے عام تاثر یہ ہے کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان حالیہ رابطوں میں بیجنگ نے پسِ پردہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔