صوبہ پنجاب کے پنشنروں کے لئے میرا کالم

صوبہ پنجاب کے پنشنروں کے لئے میرا کالم

عمر فاروق ہمارے اچھے کولیگ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) میں شعبہ فنانس کے مدارالمہام یعنی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انہوں نے ٹیوٹا بنتے، پنپتے اور جوان ہوتے صرف دیکھا ہی نہیں ہے بلکہ اس سارے عمل میں ایک فعال پروفیشنل کے طور پر شریک رہے ہیں۔ انہیں پیشہ وارانہ معلومات اور ٹیوٹا بارے مکمل قانونی اور دیگر کارکردگی بارے معلومات رکھنے کے حوالے سے یدطولیٰ حاصل ہے دوست احباب انہیں ٹیوٹا کی ”دائی“ بھی کہتے ہیں۔

بجٹ 2022-23 کی خبروں کے حوالے سے ان کے ساتھ تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشنز میں 5 فیصد اضافہ کرنے جا رہی تھی (اور عملاً ایسا ہی اعلان ہوا) انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بتایا کہ حکومت پنجاب اپریل 2022 میں وزیراعظم کی طرف سے اعلان کردہ پنشن میں 10 فیصد اضافہ کے ساتھ بجٹ میں 5 فیصد مزید اضافہ کرے گی اس طرح پنشنز میں 15 فیصد اضافہ ہو گا۔ پنجاب کے اعلان کردہ بجٹ میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا تو ریٹائرڈ ملازمین میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ بھی کر دیا ادھر ان کی ایک ایسوسی ایشن نے مظاہرے کی کال بھی دے دی سوشل میڈیا کے ذریعے میں نے یہ کال دیکھی تو مجھے لگا کہ یہ سب کچھ شاید درست نہیں ہے کیونکہ ریٹائرڈ ملازمین تک درست معلومات ہی نہیں پہنچیں۔ میں نے ایسے ہی اپنے ایک پرانے ریٹائرڈ ساتھی زاہد نوید سے رابطہ کیا۔ یہ صاحب ٹیوٹا ملازمین کے معاملات میں خاصے فعال رہتے ہیں کچھ عرصہ میرے ڈپٹی کے طور پر بھی سرکاری ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں یہ ایک مخلص، سمجھدار سرکاری ملازم رہے ہیں آج کل ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں، میں نے انہیں فون کر کے معلومات حاصل کرنے اور پھر کوئی ہڑتال وغیرہ کی طرف جانے کا فیصلہ کرنے کے لئے کہا کیونکہ عمر فاروق کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اپریل 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف نے 10 فیصد پنشن میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ روایات کے مطابق یہ اضافہ پنجاب کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس طرح حالیہ 5 فیصد اضافے کے ساتھ پنشن میں مجموعی اضافہ 15 فیصد بنتا ہے لیکن یہ بات پنشنز اور ریٹائرڈ لوگوں تک نہیں پہنچ سکی ہے جس کے باعث بجٹ کے اعلان کے بعد ان میں نہ صرف مایوسی پھیلی بلکہ اشتعال بھی پھیل گیا اور انہوں نے احتجاج وغیرہ کی منصوبہ سازی شروع کر دی ہے ہمارے حالات اس طرح کی مزاحمتی سیاست کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ عمران خان پہلے ہی اشتعال بازی میں ملوث ہو چکے ہیں اب اس میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی شمولیت سے ہمارے قومی معاملات میں شدید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے اس لئے میں نے زاہد نوید کو درست معلومات حاصل کرنے کا کہا۔ انہوں نے پنجاب حکومت میں اپنے روابط کو بروئے کار لا کر درست معلومات حاصل کیں جن کے مطابق پنشن میں اپریل 2022 کے اعلان کردہ 10 فیصدڈ اضافے کے لئے سمری چلائی جا چکی ہے جس کی منظوری کے بعد جون 2022 تک 10 فیصد اضافے کے بقایاجات جولائی میں ملنے کی اطلاعات ہیں جبکہ حالیہ 5 فیصد اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2022 سے ہو جائے گا۔ اس طرح اگست 2022 میں ملنے والی پنشن 15 فیصد اضافے کے ساتھ ہو گی۔ عمر فاروق اس حوالے سے پہلے ہی اپنا تجزیہ میرے ساتھ شیئر کر چکے تھے جبکہ زاہد نوید نے سرکاری معلومات اور دستاویز کے حوالے سے عمر فاروق کے تجزیے کی تائید کر دی ہے۔

یہ کالم میرے ان لاکھوں پنشنر ساتھیوں کے لئے ہے جو اپنی عمر عزیز کار سرکار کی ادائیگیوں میں کھپا چکے ہیں۔ اب وہ اپنی توانائیاں اور اپنے لئے کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں کھو چکے ہیں اب ان کا گزربسر پنشن کے سہارے چل رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان اور ہر روز پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لئے بھی پریشانی بلکہ شدید پریشانی کا باعث بنتی ہیں ایسی پریشانیوں سے نمٹنے کے لئے ان کی توانائیاں مو¿ثر و مستحکم نہیں ہیں بڑھتی ہوئی گرانی اور شدید نفسیاتی دباﺅ کے ماحول میں پنشن میں صرف 5 فیصد اضافے کا اعلان سن کر ان میں شدید مایوسی کے ساتھ اشتعال کا پھیلنا فطری امر ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے سرکاری ذمہ داران اس حوالے سے وضاحت کر دیتے کہ معاملہ ایسا ہے اپریل میں وزیراعظم کے اعلان کردہ 10 فیصد اضافے کو 5 فیصد میں شامل کر کے مجموعی اضافہ 15 فیصد ہو گیا ہے لیکن یہاں سب ہی چھوٹے بڑے اپنے ہی انداز میں چل رہے ہیں۔ ہمارے قومی معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات ٹھیک نہیں ہیں بلکہ خطرناک ہیں ہم تباہی کی سمت چل رہے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ہم تباہی و بربادی کی طرف دوڑ رہے ہیں ہماری کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے، ہمارا کارسرکار بھی ایسا ہی ہے بس اللہ کے نام پر اور اسی کے سہارے چلا جا رہا ہے پنشن کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اپریل میں اعلان کردہ پنشن میں اضافہ جون تک اعلان ہی رہا۔ کسی نے اس حوالے سے تردد ہی نہیں کیا کہ اس اعلان کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے درکار ضروری اقدامات اٹھا لئے جائیں، اقدامات کیا اٹھانے ہوتے ہیں ایک عدد نوٹ لکھ کر، فائل میں لگا کر چلانا ہوتا ہے، اس نوٹ کو حکم بننے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا سرکاری اہلکار چاہیں اگر اس نوٹ میں خود کو ان کا کوئی مفاد، فائدہ، مالی اضافہ وغیرہ موجود ہو تو اس نوٹ کو پہیے لگ جاتے ہیں وہ متعلقہ مقامات پر فٹافٹ پہنچ جاتا ہے اس پر متعلقہ افسر کے دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک نوٹ، ایک کاغذ سے حکم کے درجے میں چلاجاتا ہے لیکن کیونکہ پنشن میں 10 فیصد اضافے کا ہمارے حاضر سروس دوستوں سے تعلق نہیں تھا ان کے لئے اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے انہوں نے اس حوالے سے یعنی وزیراعظم کے اعلان کو، حکم کا درجہ دینے کے لئے درکار کارروائی میں دلچسپی نہیں لی اور جب پنجاب حکومت نے اپنے بجٹ میں پنشن میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا تو پنشنر حضرات میں بددلی پھیلی اور وہ احتجاج کے لئے سوچنے لگے۔ بہرحال اب کسی نہ کسی حد تک معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور بقول ہمارے دوست عمر فاروق 10 فیصد اضافے کے بقایاجات جولائی تک ملنے کی توقع ہے جبکہ یکم جولائی سے پنشن میں 15 فیصد اضافہ اگست سے ملنا شروع ہو جائے گا۔ ان شاءاللہ۔

مصنف کے بارے میں