پاکستان کا پہلا ریسٹورنٹ جو ہر طرف خوف کا منظر پیش کرتا ہے

اسلام آباد کا پہلا ریسٹورنٹ، جہاں‌‌ ہرطرف خوف ہے

پاکستان کا پہلا ریسٹورنٹ جو ہر طرف خوف کا منظر پیش کرتا ہے

اسلام آباد: پاکستان کے دارلحکومت میں پہلا ’’ہارر ریسٹورنٹ‘‘ عوام کے لیے کھول دیا گیا، جہاں خطرے مول لینے والوں کے لیے مختلف خوفناک بھوت اور دیگر ڈراؤنی اشیاء رکھی گئیں ہیں۔وفاقی دارلحکومت کھلنے والے پاکستان کے پہلے خوفناک ریسٹورنٹ کو ’’کیفے کراس باونز‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ہوٹل کی تھیم کے مطابق یہاں پیش کردہ کھانے خوفناک طریقے سے سجا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ 


جن بھوتوں کو آج تک فلموں میں دیکھا انہیں ریسٹورنٹ میں آویزاں کیا گیا ہے، منفرد رسٹورنٹ میں جگہ جگہ جھاڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ انسانی ڈھانچوں سمیت کھوپڑیاں بھی لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ہوٹل میں داخل ہونے والوں کا سامنا داخلی دروازے پر لگے خوفناک بھوتوں سے ہوتا ہے تاہم ٹیبل کے اریب قریب پر ہوٹل کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے بھوتوں کے پوسٹر اور پتلے آویزاں کیے گئے ہیں۔

کیفے کراس باؤنز میں کھانا پسند کرنے کے لیے پیش کیے جانے والے کارڈ پر بھی خوفناک پرنٹ کیا گیا ہے اس کے علاوہ وہاں ملنے والی ڈشز کو ایسے خوفناک طریقوں سے سجایا جاتا ہے جنہیں دیکھ کر بزدل شخص کی بھوک ہی اڑ جائے۔