اسرائیل نے "عرب اسرائیل " جنگ کی تمام تفصیلات سرکاری طور پر جاری کر دیں

اسرائیل نے

تل ابیب : اسرائیلی حکومت نے  جمعرات کے روز سرکاری سطح پر پہلی بار جون 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان تاریخی دستاویزات میں جنگ کے پروٹوکول، مقبوضہ غرب اردن، بیت المقدس اور جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے دیگر فلسطینی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب صہیونی ریاست نے باقاعدہ طور پر جنگ سنہ 1967ء کی تفصیلات منظرعام پرلائی ہیں۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیل کے نیشنل آرکائیو سے جاری کردہ تحریری، ریکارڈڈ اور عینی شہادتوں پر مبنی ڈیڑھ لاکھ صفحات کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں پانچ جون سے 10 کے دوران لڑی جانے والی جنگ اور اس دوران ہونے والے فیصلوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھ جون 1967ء کی جنگ کے دوسرے روز اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ’لیوی اشکول‘ نے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اسرائیل نے جنگ میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اوراسرائیلی فوج عرب ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب افواج کی شکست کے بعد علاقائی سیاسی صورت حال تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں آئینی سیاسی مقام دلانے کا وقت آگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر برائے لیبر یگال الون نے کہا کہ پرانے بیت المقدس پر قبضے میں تاخیر کی وجہ سے امریکا اور وٹیکن کی طرف سے مداخلت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بیت المقدس پر قبضے کو موثر بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔وزیر مناحیم بیگن نے تجویز دی کہ بیت المقدس اور اردن کے قبضے میں لیے گئے علاقوں کو مقبوضہ قرار دینے کے بجائے ’آزاد‘ کرائےگئے علاقے قرار دیا جائے۔وزیر دفاع موشے ڈایان نے کہا کہ بیت المقدس میں فوج داخل کرنے سے گریز کیا جائے اور کچھ مزید انتظار کرلیا جائے کیونکہ ایسا کرنےسے فوج کو فلسطینیوں کے ساتھ لڑائی کا سامنا ہوسکتا ہے اور فوج کو گلی محلوں میں لڑائی لڑنا پڑسکتی ہے۔

ایک یا دو روز کے بعد جب بیت المقدس کے شہری خود سفید پرچم لہراتے ہوئے آئیں تو اس کے بعد فوج کو جبل مکبر میں لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اہم مسئلہ غرب اردن میں ایک ملین عرب باشندوں پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس سے عرب باشندوں کے فرار کا راستہ کھلا رکھا جائے۔

خیال رہے کہ سنہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کی تازہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صہیونی ریاست القدس پرقبضے کی 50 ویں سالگرہ منانے کی تیاری کررہا ہے۔ اس بار صہیونی ریاست نے القدس پرقبضے کی سالگرہ کو سلور جوبلی کا نام دیا ہے۔جنگ کے پروٹوکول کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ عرب علاقوں کو 8 گروپوں میں تقسیم کیا۔ یہ فیصلہ کیا کہ تمام عرب باشندوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی جائے اور اسرائیلی فوج ایک ایک گھر میں جا کر تفصیلات جمع کرے گی۔

اس طرح جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقون میں کرفیو لگادیا گیا۔ 2500 اسرائیلی فوجیوں کو مقبوضہ علاقوں میں رہنے والی آبادی کی گنتی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان فوجیوں میں عربی بولنے والے فوجی شامل کیے گئے اورانہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے 150 بسیں فراہم کی گئیں۔

گنتی کے بعد بتایا گیا کہ مقبوضہ وادی گولان کے باشندوں کی تعداد 6400، جزیرہ سیناء کی 33 ہزار، غزہ کی 35600 اور غرب اردن کے علاقوں کی چھ لاکھ آبادی سامنے آئی۔

تجزیہ نگار یاکوف لازفیک کا کہنا ہے کہ پچاس سال میں یہ پہلا موقع ہے جب سنہ 1967ء کی جنگ میں حاصل ہونے والی غیرمعمولی فتوحات اور ان کے بارے میں اسرائیلی کابینہ میں شامل وزراء کے تاثرات کو منظر عام پرلایا گیا ہے۔خیال رہے کہ پندرہ جون 1967ء کو جنگ کے خاتمے کے پانچ روز بعد اسرائیلی کابینہ اور سیکیورٹی کمیٹیوں کے کئی اجلاس ہوئے جن میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے تھے۔

اس وقت کے اسرائیلی وزیرخارجہ ابا ایبان نے خبردار کیا تھا کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی پر قبضہ بارود کا ڈھیر ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دو قومیں ہیں۔ ایک وہ جس کے پاس تمام بنیادی شہری حقوق ہیں اور دوسری وہ جس کے پاس صرف کوئی حقوق نہیں ہیں۔ اسرائیلی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا ایک ملین فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کے ساتھ کھڑی ہوگی۔