موسم اور سیاست…سورج سوا نیزے پر

موسم اور سیاست…سورج سوا نیزے پر

پاکستان میں اس سال موسم بہار کی آمد نہیں ہوئی فروری میں سردی کے خاتمے کے ساتھ ہی گرمیاں شروع ہو گئیں ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل 1961ء سے لے کر اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق گرم ترین مہینے تھے حالانکہ یہ سال کا سب سے سہانا موسم ہوتا ہے جو پھول کھلنے اور پرندوں کے نغموں کی وجہ سے روایتی طور پر مشہور ہے لیکن اب ہم بے بہار spring-less عہد میں داخل ہو چکے ہیں یعنی موسموں کی حدت ہمیں گرمی اور سردی دونوں میں جاں بلب رکھتی ہے لیکن کیا مجال ہے کہ پاکستان کو ارباب بست و کشاد اور اہل حل و عقد کی کسی فہرست میں کہیں دور دور تک موسمیاتی تبدیلیوں کی بات ہوتی ہو یااسے کسی سطح پر کوئی مسئلہ سمجھا جاتا ہو اس وقت پاکستان میں درجہ حرارت50°Cتک پہنچ چکا ہے لاہور میں یہ46°C عبور کر چکا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کے جلسے کر رہی ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ہمارا سوال ہے کہ کیا کسی جلسے میں جھلسا دینے والی گرمی پر کبھی بات ہوئی ہے کہ اس پر پالیسی کی ضرورت ہے۔ 

یہ سیاسی پارٹیاں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتیں تو کم از کم اتنا احسان تو کر دیں کہ بے گناہ عوام کو اتنی شدید گرمی میں گھر بیٹھنے دیں تا کہ وہ موسم کی سختیوں سے محفوظ رہیں ڈاکٹروں کے مطابق گرمی میں گھروں سے باہر کھلے درجہ حرارت میں جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے گردوں اور جگر کی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے پیچھے سیاسی جلسوں کا عمل دخل ہے مگر چونکہ گردوں اور جگر کے مریض فوری نہیں مرتے اس لیے سیاسی پارٹیوں کا یہ گناہ بھی ان کے دیگر گناہوں کی طرح کسی اور کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ 

قابل غور بات یہ ہے کہ ایک سیاسی پارٹی نے 2014ء میں سونامی ٹری پراجیکٹ کے نام پر ایک بلین درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے اعداد و شمار ہمیشہ متنازع سمجھے گئے کیونکہ اگر 2014ء میں واقعی ایک ارب درخت لگے ہوتے تو آج پاکستان میں 7 سال گزرنے کے بعد درجہ حرارت اس وقت کے 

42-44 ڈگری سے کم از کم 5 درجے نیچے آ کر 37-38پر ہوتا تو سمجھیں کہ ہم جون جولائی میں مارچ کا مزہ لے رہے ہوتے مگر یہاں تو اس کے برعکس ہوا ہے۔ ہمارے مارچ اپریل جون جولائی جیسے ہو چکے ہیں درجہ حرارت کی اوسط شرح 5 درجے بڑھ چکی ہے جو کہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔ ایک ارب درخت 2014ء میں لگے ہوتے تو آج ان سے ہمیں اتنی لکڑی میسر آجاتی کہ ہمیں ایندھن کی ضرورت کے لیے LNG امپورٹ کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی اور تیل اور گیس پر جو سالانہ 15 بلین ڈالر خرچ ہوتا ہے وہ آدھا رہ جاتا۔ 

بات یہاں ختم نہیں ہوتی اگر موسم کی تبدیلی کی شدت میں اضافہ نہ روکا گیا تو جس تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں پاکستان میں خشک سالی کا ایک ایسا دور آسکتا ہے جس کی وجہ سے ہونے والی قحط سالی سے ہماری زراعت تباہ ہو جاتے گی اور ملک میں عذائی قلت کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جس سے صومالیہ جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر ایک بالکل عمومی اور ضمنی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں کلو میٹر پر محیط موٹر ویز کا جو جال بچھا ہوا ہے اس کے دونوں جانب خالی زمین کو اگر پھل دار درختوں سے پر کر دیا جاتا تو آج یہ مصنوعی فاریسٹ اتنا گھنا ہوتا کہ درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ لکڑی اور پھلوں کی دستیابی کا ایک مفت ذریعہ بن جاتا مگر آج تک اس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ 

اپنی دنیا کی تباہی کا ہمیں ہوش نہیں 

اپنے ماحول کا کیا حال کیے جاتے ہیں

ملک میں بجلی کے شاٹ فال میں اضافے کی بڑی وجہ اور اس کے نتیجے میں 12-12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سبب بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے اس وقت دنیا بھر میں climate change ہر حکومت حتیٰ کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے مگر ہمارے ملک میں یہ ہماری ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتا۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کا اجلاس مری جیسے ٹھنڈے علاقے میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اس سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں گرمی کا زور بہت زیادہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم تو مری میں بیٹھ کر حکومت چلا لیں گے مگر جیکب آباد والوں کا کیا ہو گا جہاں درجہ حرارت 50 کا ہندسہ عبور کر چکا ہے۔ 

اس وقت موسم اور سیاست دونوں کا درجۂ حرارت اپنے نقطہ عروج پر ہے گویا قیامت کی گرمی ہے جس میں سورج سوا نیزے پر آگیا ہے۔ حکمرانوں کے لیے یہ تو قابل برداشت ہے ہم نے آج بھی ٹی وی پر وزیر توانائی خرم دستگیر خان کو ایک بھاری بھر کم پینٹ کو ٹ اور ٹائی میں ملبوس ہو کر ایک انرجی کانفرنس میں تقریر کرتے دیکھا ہے لیکن انتہا درجے کی گرمی میں اتنے موٹے سوٹ پہن کر ٹی وی پر عوام کے سامنے آنا بہت بڑی جرأت کا کام ہے۔ شاید ایلیٹ کلاس کو پتہ ہے کو ہم جو کچھ مرضی کرتے جائیں عوام کو کوئی مسئلے نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ عوام لاکھوں کی تعداد میں بلا امتیاز ہر پارٹی کے سیاسی جلسوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ 

عوام وہی سوچتے ہیں جو سیاسی لیڈر انہیں سوچنے کے لیے کہتا ہے۔ اس کی بہترین مثال سابق حکمران جماعت کا تیزی سے تبدیل ہوتا ہوا مؤقف ہے جب وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے تو پوری قوم اس پر ایمان لاتی تھی پھر انہوں نے اس تصور کی ترک کر کے غلامی کے خلاف مؤقف اپنایا تو دیکھتے ہی دیکھتے عوام نے غلامی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ لیا اور امریکہ کے خلاف صف آراء ہو گئے وہ یہ بھول گئے کہ پاکستان پر سب سے زیادہ قرضہ IMF کا ہے اور اس عالمی مالیاتی ادارے کے خزانے میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ کا ہے مگر کوئی نہیں سوچتا کہ غلامی کی اصل حقیقت تو معاشی غلامی ہے اور ہمیشہ معاشی طور پر امریکہ اور آئی ایم ایف کا غلام بنانے میں سب سے زیادہ کردار اس جماعت کا ہے جس نے اپنے دور میں سب سے زیادہ قرضے حاصل کیے ہیں۔ اب جان کے خطرے والا ایک نیا بیانیہ سامنے لا یا جا رہا ہے اور وہ بھی مقبولیت میں اتنا ہی HIT ہے جتنا پہلے والے برانڈ تھے۔ اطلاعات ہیں کہ عمران خان کی دستخط کردہ شرٹ پر ان کے پرستار بچے ابو بکر کو 16 کروڑ تک کی آفر آ چکی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ یہ تحفہ ہے اور تحفہ فروخت کرنا غیرت مندی نہیں۔ ویسے پاکستان تحریک انصاف نے پراپیگنڈا میں دنیا بھر کی سیاست کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ جمائما خان کی 1200 کروڑ پاؤنڈز کی عدالتی پیشکش سے شروع ہو جائیں قدم قدم پر آپ کو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے واقعات تواتر سے نظر آئیں گے۔ جنگ اور سیاست میں سب جائز ہے۔ 

مصنف کے بارے میں