سپریم کورٹ کا فیصلہ، آدھا تیتر آدھا بٹیر

سپریم کورٹ کا فیصلہ، آدھا تیتر آدھا بٹیر

63 اے کی تشریح کے لیے صدر کی جانب سے جو ریفرنس دائر کیا گیا تھا اس کا فیصلہ آ گیا جس پر عمران خان نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ اسی سپریم کورٹ پر وہ بھری مجلس میں تنقید کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے کون سا جرم کیا تھا کہ عدالت رات کے بارہ بجے کھول دی گئی۔ اس روز عدالت کے دروازے صرف کھلے تھے اور قومی اسمبلی کے باہر پریزن وین کھڑی ہوئی تھی کہ شلوار گیلی ہو گئی اور حضرت صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بنی گالہ بھاگ گئے۔ ان کے وہ فالوورز جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں وہ شادیانے بجانے لگے کہ بس ڈائری لے کر چلا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس ڈائری میں سارا حساب کتاب تھا کہ کہاں کہاں سے پیسہ کمایا گیا، کس کس کو کیا کچھ دیا گیا کس کس اکاؤنٹ میں پیسہ رکھا گیا ہے۔ گوگی کی کہانیاں سامنے آئیں لیکن اس طبقے کو ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ شرم ہوتی تو وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو آج عمران خان دے جلسے وچ نچنے نوں جی کردا اے والے گانے سنتے نہ ڈانس دیکھتے۔ ملک میں الگ قسم کی تہذیب نے جنم لیا ہے۔ اس شخص نے چار برس میں معیشت کا جو بیڑا غرق کیا ہے وہ تو شائد ٹھیک ہو جائے مگر اخلاق کا جنازہ جس طریقے سے نکالا گیا ہے وہ کیسے ٹھیک ہو گا؟ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کا جو فیصلہ کیا ہے وہ متفقہ نہیں ہے بلکہ 2 کے مقابلے میں3 کی اکثریت سے ہوا۔ آئین کی تشریح کا معاملہ اتنا غیر اہم نہیں ہوتا کہ اس پر ایک بنچ بنایا جاتا بلکہ ضروری تھا کہ فل کورٹ ریفرنس ہوتا تاکہ کوئی ابہام نہ رہتا۔ تفصیلی فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا کہ اصل بات کیا ہے مگر اب تک جو باتیں سامنے آئی ہیں اس کے تحت اس پر اعتراض کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ دوسرا یہ کوئی مقدمہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ ہوا بلکہ آئین کی تشریح کی گئی ہے۔ اب جو فریق اس سے متاثر ہوا ہے وہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کرے گا اور اس فیصلے کی روشنی میں اپنی داد رسی کی درخواست دے گا۔ اس تشریح کی روشنی میں فیصلہ ہو گا۔ بادی النظر میں اس کا اطلاق صرف پنجاب میں ہو گا کہ یہاں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیے تھے۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین نے ووٹ نہیں کیا تھا بلکہ اتحادیوں نے شہبازشریف کے حق میں ووٹ دیے تھے۔

سپریم کورٹ نے ایک نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے اس کی تشریح کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیجان برپا ہے اور وہ لوگ یہ بحث کر رہے ہیں جنہیں سیاسیات کی الف ب کا بھی علم نہیں۔

میری دانست میں جو فیصلہ ہوا ہے اس سے سیاسی جماعتوں کی آمریت قائم ہو جائے گی۔ آئین میں انحراف کی سزا دی گئی ہے اور بڑی واضح لکھی گئی ہے۔ دوسرا پارلیمانی جمہوریت کا تجربہ پہلی بار پاکستان میں نہیں ہو رہا بلکہ یہ ایک نظام ہے جس کا تجربہ کئی ممالک میں کیا جا چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حقوق کی بات ہوئی ہے لیکن اراکین اسمبلی کے حق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر اس استدلال کو مان لیا جائے تو پھر ان انتخابات کے لیے امیدواروں کی 

ضرورت بھی باقی نہیں رہتی بلکہ پھر لوگ صرف پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے اور پارٹی اپنی مرضی سے اس حلقے کے لیے اپنا رکن اسمبلی منتخب کر سکے گی یا پھر مخصوص نشستوں کی طرح اپنے امیدواروں کی فہرست جمع کرا دی جائے اور لوگ پارٹی کو ووٹ کریں۔ کیا سپریم کورٹ کی اس تشریح سے صدارتی نظام کی بو نہیں آ رہی۔

انتہائی ادب کے ساتھ یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے ایک طرف یہ فیصلہ کر دیا کہ پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اس رکن کی نااہلیت اسی مدت کے لیے ہو گی یا عمر بھر کے لیے اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔ کیا یہ فیصلہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں ہے۔ جب بال آپ کے کورٹ میں ڈال دیا گیا تھا تو آپ اس پر بھی فیصلہ کرتے، یہ معاملہ آپ نے پارلیمنٹ کو بھیج دیا اور ووٹ شمار نہیں ہو گا والا معاملہ سنا دیا۔ یوں سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح نہیں کی بلکہ آئین میں گنجائش پیدا کرنے کی بات کی ہے۔ یہ فیصلہ آئین سازوں کی منشا کے خلاف ہے۔ آئین کی تشریح کے حوالے سے جس طرح معاملات سپریم کورٹ میں جا رہے ہیں اس سے یوں لگتا ہے کہ آئین میں بہت سے سقم موجود ہیں۔ اصل میں ایسا ہے نہیں بلکہ برطانیہ جو پارلیمانی جمہوریت کا بانی ہے وہاں تو تحریری آئین تک موجود نہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کی تشریحات وہاں نہیں کی جا رہیں۔ وہ اپنا نظام بہترین طریقے سے چلا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کرنے والا صدر ہے جو خود ہی پارلیمانی جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ اس کی ذہنی کیفیت مستحکم نہ ہونے کے بہت سے شواہد موجود ہیں اس کے باوجود اس کی طرف سے دائر ہونے والے ریفرنس کو سنا گیا اور حکومت نے اس میں مداخلت نہیں کی۔ یہ سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والی محاذ آرائی کو جنم دے رہا ہے۔ اسمبلی کو توڑنے اور گورنر کی تقرری اور اسے ہٹانے کے معاملے پر صدر نے جو کچھ کیا وہ ایک جمہوری شخص سوچ بھی نہیں سکتا۔

صدر عارف علوی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63- اے سے متعلق سپریم کورٹ سے 4 اہم سوالات پوچھے گئے تھے۔

کیا آرٹیکل 63- اے محدود یا وسیع ہونا چاہیے، تشریح کیا ہے؟

کیا منحرف رکن کا ووٹ شمار ہوگا؟

کیا منحرف اراکین تاحیات نااہل ہوں گے؟

انحراف، فلور کراسنگ اور ووٹ کی خریداری روکنے کے لیے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟

پہلے سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر مجموعی طور پر اور ایک رکن کے انفرادی بنیادی حقوق کے درمیان کوئی تنازع ہو تو اول الذکر کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔آرٹیکل 63-اے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کے بنیادی حق کا نفاذ کرتا ہے، اس لیے اس کی تشریح اور اطلاق وسیع بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ کرنا چاہیے۔

ووٹ شمار کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایوان میں ایک پارلیمانی پارٹی کا کسی بھی رکن کا ووٹ آرٹیکل 63-اے کی ذیلی شق ایک کے پیرا بی کے تحت اول الذکر کی جاری کردہ کسی ہدایت کے خلاف دیا جائے تو شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی سربراہ انحراف کی وجہ بننے والے ووٹ کے بعد کارروائی کرے یا نہ کرے۔

تیسرے سوال کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ انحراف کے تعین پر آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی اگر پارلیمان مناسب قانون بنائے تو ہوسکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس طرح کی قانون سازی پارلیمان کا کام ہے ، یہ کہنا چاہیے کہ اس طرح کا قانون بنانے کے لیے یہ بہترین وقت ہے، اگر اس طرح کی قانون سازی کی جاتی ہے تو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ غلط کاموں کی روک تھام کے لیے مضبوط اور مناسب ہونی چاہیے تاکہ اس کا خاتمہ ہو۔ سپریم کورٹ نے چوتھے سوال کا جواب نہیں دیا۔

سپریم کورٹ سے انتہائی ادب کے ساتھ گذارش ہے کہ آئین کی مختلف شقوں میں موجود ابہام کو ایک ہی بار دور کرنے کے لیے تمام شقوں کی تشریح کی جائے تاکہ اسے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی روایت کا خاتمہ ہو سکے۔ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ایک ہی بار ان تمام امور کا جائزہ لیا جائے اور جہاں پر سقم موجود ہے اس کو ختم کیا جائے یا پھر سیاسی جماعتوں اور حکومتی ذمہ داران کے لیے ریفریشر کورس کا انتظام کیا جائے۔ اس سے سپریم کورٹ پر غیر ضروری مقدمات کا دباؤ ختم ہو گا اور وہ یکسوئی کے ساتھ دوسرے مقدمات کو سن سکے گی۔ اس نظرثانی کے عمل کے بعد سپریم کورٹ پر بھی انگلیاں اٹھنا بند ہو جائیں گی اور سپریم کورٹ کو متنازع بنانے کی روش کا خاتمہ ہو سکے گا۔

مصنف کے بارے میں