توہین مرقدؐ پہ ہم زندہ نہ ہوتے

 توہین مرقدؐ پہ ہم زندہ نہ ہوتے

مسلمانوں کی محسن وہ پاک ہستی ، جس کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو بندگان جیسی خوبصورت تخلیق ، یعنی احسن تقویم سے متعارف کرانے کی باعث بنی ، حالانکہ اس مصور اور اس خالق کو اپنی تخلیق پہ ناز ہے بقول شاعر زبیر مصطفیٰ

انہیں خلق کر کے نازاں ، ہوا خود ہی دست قدرت

کوئی شاہکار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا !!

کوئی مثل مصطفیٰؐ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا 

کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا !

اسی لئے تو مشتاق دیدار عاشق حقیقی نے انہیں اپنے بیت معمور جو فرشتوں کا خانہ کعبہ ہے اور جو عرش پہ قائم و دائم ہے۔ ارضی خانہ کعبہ کے عین اوپر واقعہ ہے ۔ اس سے بھی اوپر سدرۃ المنتہیٰ ہے اور پھر عرش الٰہی ہے۔ حضورؐ وقت معراج جب ساتوں آسماں پر پہنچے ، تو ایک عظیم الشان محل بیت العمور دیکھا ، جہاں بیشمار فرشتے آتے اور جاتے تھے۔ آپؐ مزید اوپر چڑھنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ آپؐ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے۔ جو اللہ رب العزت اور عالم خلق کے درمیان آخری حد کی حیثیت رکھتا ہے اس پر تمام مخلوقات کی رسائی اور علم ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد جو کچھ ہے وہی غیب ہے ، غیب کا علم نہ کسی نبی کو ہے ، اور نہ کسی مقرب فرشتے کو سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس میں سے کسی کو کوئی علم و آگہی دے دے۔ نیچے سے بھی جو کچھ جاتا ہے وہاں لے لیا جاتا ہے، اور اوپر سے جو کچھ آتا ہے اسے یہاں وصول کر لیا جاتا ہے۔ 

سدرۃ المنتہیٰ پر جبرائیلؑ ٹھہر گئے ، یہ ایک بیری کا پیڑ ہے، انتہا پر ، اس پر بیشمار ملائکہ جگنو کی طرف چمک رہے تھے۔ آپؐ تن تنہا آگے بڑھے، ایک بلند اور ہموار سطح پر پہنچے تو بارگاہ ذوالجلال سامنے تھی ۔ آپؐ کو ہمکلامی کا شرف بخشا گیا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضورؐ کو کچھ خوشخبریاں دیں ، صرف ایک لکھ رہا ہوں وہ خوشخبری یہ تھی کہ امت محمدیہؐ میں سے جو کوئی بھی شرک سے بچا رہے گا اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔ 

صبح سویرے سب سے پہلے آپؐ نے اپنی چچا زاد بہن ام ہانی کو واقعہ معراج کی یہ روداد سنائی ، اور پھر جب آپؐ باہر نکلنے لگے تو انہوں نے آپؐ کی چادر پکڑ لی اور کہا خدا کے لئے یہ بات لوگوں کو مت بتایئے گا ورنہ ان کو آپؐ کا مذاق اڑانے کے لئے ایک اور بات ہاتھ لگ جائے گی ، مگر آپؐ یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے کہ یہ بات میں ضرور لوگوں کو بتائوں گا۔ حرم کعبہ پہنچے تو ابوجہل سے آمنا سامنا ہوا۔ اس نے کہا کوئی تازہ خبر؟ فرمایا ہاں میں آج رات بیت المقدس گیا تھا ، ابوجہل نے حیران ہو کر پوچھا، راتوں رات ہو بھی آئے اور صبح یہاں موجود ہو فرمایا ہاں ، ابوجہل بولا کہ قوم کو جمع کروں سب کے سامنے یہ بات کہو گے ۔ جواب دیا بے شک ، ابوجہل نے آوازیں دے دے کر سب لوگوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا تو اب کہو۔

آپؐ نے سب کے سامنے پورا قصہ بیان فرما دیا۔ لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ کوئی تالی پیٹ رہا تھا ، تو کوئی حیرانگی سے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ دو مہینے کا سفر ایک رات میں ناممکن، پہلے تو شک تھا مگر اب یقین ہو گیا ہے کہ تم دیوانے ہو، (معاذ اللہ)

قارئین مجھے اور آپ کو بھی ہوا ہو گا کہ کوئی خود کو مسلمان کہلوانے والا ایسی مکروہ حرکت کا کرنا تو کجا سوچ بھی سکتا ہے۔ جس طرح پچھلے دنوں مسجد نبویؐ میں کچھ بدبختوں نے اس ہستی کے آرام میں خلل ڈالنے کا گناہ کبیرہ کیا۔ ابوبکر صدیقؓ حرم کعبہ میں آئے اس وقت نبی اکرمؐ بیت المقدس کے ان مقامات پر تذکرہ فرما رہے تھے۔ جن پر سے (اسراء) کی رات پر آپؐ کا گزر ہوا تھا جو نہی مسجد اقصیٰ اور اس کی جغرافیائی حیثیت کا تذکرہ فرمایا چونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ وہاںسے ہو آئے تھے اس لئے انہوں نے سنتے ہی کہا کہ میں تصدیق کرتا ہوں ۔ یارسول اللہؐ نے اسی تصدیق کی بنا پر اس وقت سے حضرت ابوبکر کو ’’صدیق‘‘ کے خطاب سے پکارنا شروع کر دیا۔ وہاں بہت سے ایسے آدمی موجود تھے جو تجارت کے سلسلے میں بیت المقدس جایا کرتے تھے۔ وہ دل سے قائل ہو گئے کہ ان کا بتایا ہوا نقشہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ آپؐ کے بیان کی سچائی کا مزید ثبوت مانگنے لگے، حضورؐ نے فرمایا کہ میں جاتے ہوئے فلاں فلاں مقام پر فلاں قافلے پر سے گزرا ، جن کے ساتھ یہ یہ سامان بھی تھا بلکہ قافلے والے لوگوں کے اونٹ براق سے ڈر کر فلاں وادی کی طرف بھاگے تو میں نے قافلہ والوں کو اس کا پتہ دیا۔ واپسی پہ فلاں وادی میں فلاں قبیلے کا قافلہ مجھے ملا ، سب لوگ سو رہے تھے میں نے ان کے برتن سے پانی بھی پیا ، اور اس بات کی علامت چھوڑ دی تھی کہ اس برتن سے پانی پیا گیا ہے یہ واقعہ سننے کے بعد قریش والوں نے بڑی جستجو کے بعد ان دونوں قافلوں کا سراغ لگا کر ان سے ان واقعات کی تصدیق کرانا چاہی ، تو دونوں قافلوں نے اس کی تصدیق کر دی۔ قارئین کرام دراصل واقعہ معراج میں ساتوں آسمانوں میں جزا اور سزا دینے کے مناظر حضور نبی کریمؐ کو دکھائے گئے تھے۔

قارئین کرام، دراصل اس دینی اور روحانی تحریر کا تعلق بھی ہر دور بلکہ قیامت تک کے لئے فکر انگیز ہے۔ 

حضورؐ کو جو بھی مشاہدات کرائے گئے ، چونکہ علیحدہ ان کو بیان کرنا ناممکن ہے ، لہٰذا میں اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کرتا ہوں کہ صرف آپ کو ایک ہی فکر انگیز بات بتاتا ہوں ، جو واقعہ معراج کا ماحصل ہے۔ امت مسلمہ کو متنبہ کیا گیا کہ ایک معاشرے کو آخرکار جو چیز تباہ کرتی ہے ، وہ ان کے بڑے لوگوں کا بگاڑ ہے ۔ جب کسی قوم میں تباہی ہونے کو ہوتی ہے تو اس کے خوش حال اور صاحب اقتدار لوگ فسق و فجور پر اتر آتے ہیں، ظلم ستم ، شرارتیں اور بدکاریاں کرنے لگتے ہیں آخر کار یہی فتنہ پوری قوم کو لے ڈوبتا ہے لہٰذا جو معاشرہ جو آپؐ اپنا دشمن نہ ہو اسے فکر کرنی چاہئے کہ اس کے وطن میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور اور معاشی دولت کی کنجیاں کم ظرف اور بداخلاق لوگوں کے ہاتھ نہ جانے پائیں۔

قارئین کرام ، میں نے حضور سرورکائناتؐ کا مقدمہ ختم نبوتؐ اس لئے ہمیشہ لڑا ہے کہ ان جیسی ہستی جن کی تقدیس کو ان کے حجرہ مبارک میں بدطینت ، بدخصلت اور بدقماش لوگوں نے سابقہ وزیر داخلہ کے تحریر کردہ ڈرامے کے عین مطابق پامال کیا اور جس کی تشہیر اس بدبخت نے ایک دن قبل منظوری لینے کے بعد کر لی تھی ، اس کا مقدمہ خواہ خواجہ آصف نہ درج ہونے دیں ، خواہ سعودی ولی عہد اس دلخراش واقعے پہ دم سادھ لیں مگر یقین کریں کہ یہ مقدمہ اوپر سب سے اوپر والی آسمانی عدالت میں درج ہو چکا ہے ، جس کا فیصلہ مخفوظ بھی نہیں کیا گیا بلکہ سنا بھی دیا گیا ہے کہ اس توہین کی نہ معافی ہے نہ تلافی اور نہ ہی اس کی توبہ منظور ہوتی ہے۔ بس آپ ان شاء اللہ ایک ایک کا انجام دیکھتے جائیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو اپنے دوستوں یعنی ولیوں کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کرتا ، بلکہ فوراً بدلہ لیتا ہے تو قارئین کرام ، آپ کا یہ خیال خام ہے کہ وہ ذات بزرگ و برتر اور قہار و صابر ، اپنے ، محبوبؐ ، اپنے یار، اپنے دوست کا بدلہ لئے بغیر ان کو چھوڑ دے گا ، وہ تو یہ چاہتا ہے۔

شوق و نیاز و عجز کے سانچے میں ڈھل کر آ 

یہ کوچہ حبیبؐ ہے پلکوں سے چل کر آ !!

مصنف کے بارے میں