باراک اوباما نے صدارت کے بعد داڑھی رکھنے کا عندیہ دیدیا

باراک اوباما نے صدارت کے بعد داڑھی رکھنے کا عندیہ دیدیا

واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما نے صدارت کے بعد داڑھی رکھنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ  صدارت کے بعد بھیس بدل کربرلن آؤں گا، شاید داڑھی رکھ لوں ، ہیٹ اور چشمہ پہن لوں۔


اسنوڈن کی معافی سےمتعلق سوال پربارک اوباما نے کہا کہ ایسے شخص کو معاف نہیں کر سکتا جوعدالت کے سامنے پیش  نہ ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم چلانا اور حکومت کرنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔باراک اوباما نے مزید کہا کہ  ڈونلڈ ٹرمپ مان لیں گے کہ ایران ڈیل کوختم کرنادانشمندی نہیں ہوگی ۔ایران نے وعدے پورے کیے۔ ڈیل کوعالمی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ری پبلکنزجان لیں گے جن امور کو میں نےشروع کیا انھیں الٹ پلٹ کرنا فائدہ مند نہیں ہوگا۔  یہ نظریاتی بنیادپرنہیں تبدیلی کی لہرکیلیےہے۔ انتخابی نتائج بعض اوقات عوام کےتاثرات کےمکمل ترجمان نہیں ہوتے۔ نوجوان افراد کے ووٹ ڈالنےکا امکان کم ہوتا ہے۔

اوباما نے مزید کہا کہ امریکا کی نئی نسل برداشت اور انضمام پریقین رکھتی ہے۔ شاید لاکھوں افراد ایسے ہوں جنھوں نے پہلے مجھے اور اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ تقسیم کی ایک وجہ شہری علاقوں میں اقتصادی ترقی کی شرح دیہی علاقوں سے بہتر ہونا ہے۔  حقیقت یہ ہےکہ امریکاسیاسی طورپرکافی عرصےسےتقسیم ہے۔ آج بھی اتناہی مقبول ہوں جتنااپنےانتخاب کےوقت تھا۔