امریکا میں مسلمانوں سے یکجہتی کا منفرد اظہار

 امریکا میں مسلمانوں سے یکجہتی کا منفرد اظہار

مشی گن :امریکا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے میں پیچھے نہیں رہتے۔ایسا ہی کچھ مشی گن یونیورسٹی میں دیکھنے میں آیا، جہاں کے طالبعلموں نے اپنے مسلم ساتھیوں کی حفاظت کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔


جب یہ خبر پھیلنا شروع ہوئی کہ ایک مسلم طالبہ کو اس کے عقائد کی بناء پر دھمکیوں کا سامنا ہے تو یونیورسٹی کے سیکڑوں طالبعلم اپنے مسلم ساتھیوں کے تحفظ اور یکجہتی کے لیے اس جگہ جمع ہوئے جہاں وہ عشاءکی نماز ادا کررہے تھے۔عشاء کی اس نماز کا عوامی انعقاد یونیورسٹی کی مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن نے کیا تھا اور اس کے صدر کے مطابق ان کے گروپ کے اراکین کیمپس کے سامنے ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ انہیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔اس موقع پر نماز کی ادائیگی میں مصروف افراد کی حفاظت کے لیے سیکڑوں غیر مسلم طالبعلموں نے حصار بنایا۔

مسلم ایسوسی ایشن کے صدر فرحان علی کا کہنا تھا ' کچھ مسلم طالبعلموں کو ڈر تھا کہ نماز کے دوران حملہ ہوسکتا ہے جس پر ہم نے مدد کے لیے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے غیر مسلم دوستوں نے تحفظ کے لیے ہمارے گرد ایک حصار بنالیا'۔مگر فرحان علی کو اتنے زیادہ افراد کی آمد کی توقع نہیں تھی، جن میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی۔انھوں نے بتایا، 'ہزاروں افراد نماز کی ادائیگی اور سپورٹ کے لیے جمع ہوئے، اس سے مسلم طالبعلموں کو سکون محسوس ہوا اور انہیں لگا کہ ایسے افراد کی کمی نہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے پرعزم ہیں'۔اس سے پہلے مشی گن یونیورسٹی میں ایک طالبہ کو حجاب پہننے پر ہراساں کیا گیا تھا جس کے بعد ہی عشاء  کی نماز کے اجتماع کا فیصلہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے بعد سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔