کینیڈین خاندان کی بازیابی،امریکی کمانڈو پاکستان میں کاروائی کے لیے تیار تھے

کینیڈین خاندان کی بازیابی،امریکی کمانڈو پاکستان میں کاروائی کے لیے تیار تھے

واشنگٹن:اگر پاکستانی فوج مغوی کینیڈین خاندان کی بازیابی میں ناکام ہو جاتی، امریکی فوج کے کمانڈو پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر داخل ہونے کو تیار تھے،۔ تفصیلات کے مطابق نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی سٹوری کے مطابق امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ کینیڈین خاندان کی بازیابی کے لیے پاکستان قیادت کو آمادہ کریں ورنہ امریکی کمانڈو ایبٹ آباد آپریشن کی طرز کے تیار تھے،یاد رہے ایبٹ آباد آپریشن اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔


اخبار میں مزید کہا گیا ہے اگر پاکستان فوج کینیڈین خاندان کو بازیاب کرنے میں ناکام ہو جاتی تو امریکیوں کو اس خیال کو تقویت ملتی کہ پاکستان کی حدود میں دہشتگردوں کی محفوظ پناگاہیں موجود ہیں ۔

پاکستان حکام نے امریکی اطلاع پر فوری آپریشن کیا جس کی بنیاد پر مغویوں کی کار کو تلاش کیا گیا تھا اور فائرنگ کے تبادے کے بعد ان کو رہا کروا لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق گیارہ اکتوبر حقانی نیٹ ورک نے اس خاندان کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا،خیال کیا جاتا ہے.

اس خاندا ن کو ہاٹ کی جانب منتقل کیا جانا تھا اس جگہ پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،امریکی حکان نے فیصلہ کر رکھا تھا اگر پاکستان حکام کی طرف سے مدد نہ فراہم کی گئی تو فوری طور پر نیوی کمانڈو پاکستان کی حدود میں کارروائی کے لیے تیار تھے