کینیڈا کے صوبہ کیوبک میں حکومتی سروسز حاصل کرتے وقت نقاب پر پابندی عائد

کینیڈا کے صوبہ کیوبک میں حکومتی سروسز حاصل کرتے وقت نقاب پر پابندی عائد

اوٹاوا: کینیڈا نے مسلم خواتین کو نشانہ بنا ڈالا،کینیڈا کے صوبہ کیوبک نے مذہبی غیر جانبداری کے حوالے سے ایک متنازع بل پاس ہواہے جس کے تحت پبلک سروس فراہم کرتے ہوئے یا کسی پبلک سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی نقاب نہیں پہن سکتا۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صوبے نے حال ہی میں اس قانون کے دائرہ کار میں اضافہ کرتے ہوئے میونسپل اور پبلک ٹرانزٹ سروسز کو بھی شامل کر لیا ہے،جو خواتین برقع یا نقاب پہنتی ہیں انہیں کسی قسم کی حکومتی سروسز حاصل کرتے ہوئے اپنا چہرہ دکھانا پڑے گا۔کیوبک کی اسمبلی میں یہ قانون 51 کے مقابلے میں 66 ووٹوں سے منظور ہوا ہے۔

بیوروکریٹس، پولیس اہلکاروں، اساتذہ، بس ڈرائیوروں، عوامی ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسیں سب کو اب کام کے دوران اپنا چہرہ چھپانے کی اجازت نہیں۔اس قانون کی ایک اور شق کے تحت عوامی مراعات حاصل کرنے والے ڈے کیئر سنٹر اب مذہبی تعلیمات نہیں دے سکتے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون میں منہ ڈھانپنے کی تمام اقسام شامل ہیں اور اس کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے نقاب کرنے والی مسلم خواتین حکومتی سروسز حاصل کرنے سے محروم رہیں گی تاہم اس قانون میں اس بات کی گنجائش ہے کہ لوگ اس حوالے سے خصوصی اجازت کی درخواست دے سکیں۔