بھارت: پوسٹمارٹم کیلئے بیٹی کی لاش اٹھا کر باپ کو 8 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا

بھارت: پوسٹمارٹم کیلئے بیٹی کی لاش اٹھا کر باپ کو 8 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا
فائل فوٹو

ممبئی :بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ایک شخص نے پوسٹمارٹم کرانے کیلئے اپنی بیٹی کی لاش اٹھا کر 8 کلومیٹر پیدل سفر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 7 سالہ لڑکی اڑیسہ کے ضلع گاجاپتی میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر ہلاک ہو گئی تھی بابیتا نامی لڑکی کی لاش کندھے پر اٹھا کر 8 کلومیٹر پیدل سفر کرنے والا شخص موکند دورہ ضلع گاجاپتی کے گاؤں اتانکپور کا رہائشی ہے۔


خیال رہے کہ لڑکی ریاست میں آنے والے حالیہ طوفان میں لاپتہ ہو گئی تھی جبکہ ریاست کی حکومت نے لڑکی کو پنچائیت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مردہ قرار دے دیا تھا جبکہ اس کی لاش اس وقت تک نہیں ملی تھی خصوصی ریلیف کمشنر آفس کے عہدیدار نے بتایا کہ طوفان شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے لڑکی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر لاپتہ ہو گئی تھی۔

 مقامی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موکند دورہ نے بیٹی کی لاش کانپور کے سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کیلئے 8 کلومیٹر پیدل سفر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بیٹی کی لاش نالے کے قریب سے ملی جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جنہوں نے گاؤں میں آکر لاش کی تصاویر لیں۔ والد نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے بیٹی کی لاش پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کرنے کے اقدامات نہ کئے جانے پر انہوں نے لاش خود پیدل ہسپتال منتقل کی۔

پولیس والوں نے ہم سے لاش ہسپتال منتقل کرنے کیلئے کہا تھا میں ایک غریب آدمی ہوں گاؤں سے لاش کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے میرے پاس گاڑی حاصل کرنے کے وسائل نہیں تھے جبکہ طوفان کی وجہ سے گاؤں کی سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں اس لئے میں نے لاش کو ایک بیگ میں ڈالا اور کندھے پر اٹھاکر ہسپتال منتقل کیا۔