مہنگائی میں اضافے کی رفتار گزشتہ مالی سال سے دگنی ہوسکتی ہے، اسٹیٹ بینک

 مہنگائی میں اضافے کی رفتار گزشتہ مالی سال سے دگنی ہوسکتی ہے، اسٹیٹ بینک

 کراچی:  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی بڑھنے کی پیش گوئی کردی جب کہ مہنگائی میں اضافے کی رفتار گزشتہ مال سال سے دگنی ہوسکتی ہے۔


تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی معاشی جائزہ رپورٹ برائے سال 2017-18کے مطابق مہنگائی کو کم رکھنے اور بلند معاشی نمو پر مبنی توازن کو برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھ گیا ہے۔ مالیاتی اور جاری کھاتے کا خسارہ بھی بدستور بے قابو رہے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو ہدف سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-19میں معاشی ترقی کی شرح نمو کے لیے 6.2فیصد کا ہدف پورا نہیں ہوگا۔ معاشی ترقی کی شرح نمو 4.7 فیصد سے 5.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔رواں مالی سال مہنگائی کی شرح گزشتہ مالی سال سے دگنی ہوگی۔ مہنگائی میں اضافے کی شرح کو 6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف بھی ناقابل حصول ہوگا۔ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کی شرح میں 6.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق درآمدات کی مالیت 60ارب ڈالر سے زائد رہنے، برآمدات 28 ارب ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔ مالیاتی خسارے میں بھی اضافہ ہوگا، جاری کھاتے کا توازن مزید خراب ہوگا۔ مالیاتی اور جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 5سے 6فیصد تک رہے گا۔ مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 4.9فیصد اور جاری کھاتے کے خسارے کو 4 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف بھی مشکل ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق برآمدات میں دہرے ہندسوں میں اضافہ اور تارکین کی ترسیلات میں بہتری کے اثرات درآمدات کی وجہ سے زائد ہوگئے۔