بھارت کے چندریان ٹو آربٹر سے چاند کی سطح کی کچھ تصاویر موصول

بھارت کے چندریان ٹو آربٹر سے چاند کی سطح کی کچھ تصاویر موصول

بھارت کے چندریان ٹو آربٹر سے چاند کی سطح کی کچھ تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں چاند کی مختلف سطح پر پڑنے والی سورج کی روشنی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چندریان ٹو نے اپنے آن بورڈ امیجنگ اسپیکٹرومیٹر کو استعمال کرتے ہوئے روشن چاند کی ایک تصویر کھینچی۔


اور چاند پر سطح پر پڑنے والی سورج کی روشنی کے تغیرات کا مشاہدہ کیا۔

بھارتی اسپیس ریسرش آرگنائزیشن نے تازہ ترین اپ ڈیٹس بتاتے ہوئے کہا کہ ان تصاویر سے چندریان ٹو آربٹر کو چاند کی سطح کی کمپوزیشن، اور بالآخر اس کے آغاز اور ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سائنسی تحقیق کے مطابق چاند خود روشن نہیں ہوتا بلکہ سورج کی روشنی چاند پر پڑتی ہے اور اس روشنی کے منعکس ہونے کی صورت میں چاند روشن ہو جاتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاند خود روشنی دے رہا ہے۔

چاند پر پڑنے والی سورج کی روشنی میں بھی متعدد تغیرات ہوتے ہیں۔ انڈین اسپیس ریسرچ سینٹر کے مطابق یہ تغیرات چاند کی سطح پر مختلف نمکیات کے امتراج کی وجہ سے ہر حصے پر مختلف ہوتے ہیں۔ آسان الفاظ میں اگر چاند کا ایک حصہ نمکیات سے بھرپور ہے وہ چاند کے ا±س حصے سے، جہاں نمکیات کی کمی ہے ، سورج کی روشنی کو مختلف طریقے سے منعکس کرے گا۔ اور اسی طرح سورج کی روشنی کے منعکس ہونے کے تغیرات سے ہم چاند کی سطح کے مرکب کو سمجھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ چندریان ٹو آربٹر بھارت کے چندریان ٹو مشن کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس مشن کا سب سے بڑا مقصد چاند کی سطح پر قدم رکھنا اور بھارت کو دنیا بھر میں چاند کی سطح پر قدم رکھنے والا چوتھا ملک بنانا تھا۔ لیکن چندریان ٹو مشن پر جانے والے وکرم سے رابطہ منقطع ہونے پر یہ مشن مکمل نہیں ہو سکا تھا۔