سیاسی، معاشی استحکام اور جو بائیڈن

سیاسی، معاشی استحکام اور جو بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی کے استقبالیے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اْن کے خیال میں پاکستان شاید ’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے‘ جس کے پاس موجود ’جوہری ہتھیار غیر منظم‘ ہیں۔ اْن کی جانب سے اس موقع پر کیا گیا خطاب وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔ جس میں جوبائیڈن کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’اور میرے نزدیک شاید دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک، پاکستان۔ اس کے پاس موجود جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں۔ امریکی صدر کے یہ ریمارکس بدلتے عالمی سیاسی منظرنامے کے تناظر میں دیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے سیاسی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور متعدد ممالک اپنے اتحاد کے بارے میں نظرثانی کر رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے اس بیان کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، پاکستان کی چائنا اور روس سے قربت، افغانستان سے شکست اور پاکستان کا موقف، پاکستان کو جوہری ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی میں مضبوط ہونا اور پاکستان میں سیاسی اور معاشی بحران کو امریکہ نے ہمارے جوہری اثاثوں کے بارے میں بات کرنے لئے موضوع وقت سمجھا۔

یہ وہ امریکہ ہے جو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بات تو کرتا ہے لیکن اس کی منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جب یہ امن کے ٹھیکیدار دنیا میں خاص طور پر اسلامی ممالک جیسے عراق، افغانستان کی تباہی کے لئے اسلحہ فروخت کرتے ہیں آج امریکہ اسلحہ کی فروخت میں نمبر 1 پر  39فیصد، روس 19فیصد، فرانس 11فیصد، چائنہ 4.6 فیصد اور جرمنی 4.5فیصد ہے۔ سال 2022 میں امریکہ نے 50 بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ سابق امریکی صدر جیمی کارٹر نے ایک اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون پر بتایا تھا کہ امریکی تاریخ 226 سالہ جنگوں کی گواہ ہے۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکہ اور مغرب پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں۔ پچھلی دو دہائیوں میں، امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جنگیں کرنے اور جاری رکھنے کے لیے تقریباً 1.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ دیگر جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراق، شام، افغانستان اور پاکستان سے متعلق امور پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 3.6 ٹریلین ڈالر تھا۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز نے تحقیق کی جس سے پتہ چلتا ہے کہ 9/11 کے حملوں کے بعد امریکی جنگوں پر 5.9 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئی، جس سے 500 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ براؤن یونیورسٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2017 تک افغانستان اور پاکستان میں امریکی قیادت میں جنگ کی وجہ سے 71 ہزار سے زائد شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نے رپورٹ کیا کہ امریکہ اب بھی دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور ملک نے 2011-2016 میں عالمی فوجی ساز وسامان کی برآمدات میں اپنا حصہ 32 فیصد سے بڑھا کر 2020 میں 37 فیصد کر دیا ہے۔

اب جبکہ پاکستان سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا بیان ایک لمحہ فکریہ ہے ان حالات میں واحد حل سیاسی رسہ کشی کا خاتمہ جو ہمیں معاشی بحران سے نکالے گا اور جو بائیڈن کو خاموش کرنے کے لئے کافی ہوگا لیکن پاکستان میں جب تک سب سیاست دان مل کر ملک کر سیاسی اور اقتصادی دونوں حوالوں سے بہتر بنانے کا فیصلہ نہیں کریں گے، تب تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ پاکستانی ادارے ہی ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت اور سیاسی صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی بھی حکومت بنانا یا گرانا ان کا وتیرہ بن چکا ہے۔اسی لیے معیشت کبھی مضبوط نہیں ہو پاتی۔ عام آدمی تو بس اپنے مالی وسائل اور مشکلات کا موازنہ کرتے فکر مند ہی رہتا ہے۔ اس کے لیے ذاتی معاشی ترقی تو آج بھی بس ایک خواب ہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ قومی بحران کی جڑیں کافی گہری ہیں اور یہ مختلف فریقین کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اس وقت ایک محاذ سیاسی قوتوں کے درمیان ہے جو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تقسیم ہے۔ عددی طاقت کے اعتبار سے حکمران اتحاد بھاری ہے۔ سیاسی ٹکراؤ سمیت بداعتمادی کی فضا ہے جہاں کوئی بھی فریق دوسرے مخالف سیاسی فریق کے وجود کو ہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اہل سیاست کا مل بیٹھنا اور مسائل پر کوئی متفقہ رائے اختیار کرنا کسی کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر اعتماد کا بحران مفاہمت کی سیاست میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے اس ٹکراؤ نے جہاں سیاسی ماحول کو کشیدہ کردیا ہے وہیں اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑرہا ہے جو عوامی معاشی مشکلات کو اور زیادہ سنگین کررہی ہے۔ اس کا احساس کسی حد تک سیاسی قوتوں میں موجود ہے۔ وزیر اعظم شہباز 

شریف تو میثاق معیشت کی بات بھی کررہے ہیں مگر کشیدہ سیاسی حالات میں میثاق معیشت کیسے ممکن ہوسکے گا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔لیکن حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کے پاس موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کا کوئی ایسا واضح روڈ میپ نہیں جو مثبت انداز میں مستقبل کا کوئی سیاسی و معاشی نقشہ کھینچ سکے۔ ایک روایتی اور وقتی پالیسی کسی بھی صورت میں ہمیں معاشی بحران سے نہیں نکال سکے گی۔یہ جو لوگ معاشی ترقی کا حل سیاسی مسائل کو نظر انداز کرکے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ درست تجزیہ نہیں۔ معاشی مسائل کا ایک بڑا حل ملک میں سیاسی استحکام اور سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے مضبوط اور مربوط سیاسی صف بندی اور چند اہم قومی سیاسی اور معاشی معاملات پر حکومت و حزب اختلاف کا اتفاق رائے کے بغیر مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہوسکے گا۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں ایک دوسرے پر سیاسی سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

بہرحال جو بائیڈن کے بیان کو سامنے رکھیں فوری طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہئے جس کی میزبانی حکومت وقت کرے اور اس میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت ضروری ہے۔ تمام اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک نکاتی ایجنڈے "ملکی دفاع کی حفاظت کے لئے ہم ایک ہیں " پر اکٹھا ہونا چاہئے۔ اس کے بعد پاکستان کی معیشت بھی ایک بہتر نیا رخ پکڑے گی۔ سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کی وجہ بنے گا، امریکہ اور اس کے حواریوں کو پاکستان کے جوہری اثاثوں پر بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ پاکستان میں 8 کروڑ سے زائد افراد جو غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں، 2 کروڑ 50 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں انہیں نئی زندگی ملے گی۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں بھی بہتری آئے گی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کو تقویت ملے گی۔ یہ تب ممکن ہے جب ہماری سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی ختم ہوگی۔

میں جو بائیڈن کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسلام تو غالب ہونے کے لئے آیا ہے جب میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل تک خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں لٹک رہی تھیں لیکن انہیں رہن نہیں رکھا گیا تھا۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو سوچا، دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح بنے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کے بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے اور جوہری اثاثوں کی حفاظت کریں گے۔

مصنف کے بارے میں